بھارت کی پنجاب پالیسیوں نے خالصتان کے مسئلے کو ایک عالمی تحریک میں تبدیل کر دیا

امرتسر: سکھ رہنماوں، کارکنوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کاکہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے پنجاب کے بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار نے جو ابتدائی طور پر ایک اندرونی مسئلہ تھا ،اسے ایک عالمی سیاسی چیلنج بنا دیا ہے اور دنیا بھرمیںمقیم تارکین وطن سکھ اپنے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لئے سرگرم ہو رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی داخلی پالیسیوں اور پنجاب میں فوجی کارروائیوں سے بیرون ملک مقیم سکھوں خاص طور پر سکھوں کی بڑی آبادی والے ممالک میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں سکھ کمیونٹی پنجاب، انسانی حقوق اور سکھوں کی سیاسی امنگوں سے متعلق مسائل پر موثر آواز بن کر ابھری۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ ٹورنٹو، وینکوور، لندن اور سڈنی جیسے شہروں میں سکھوں کی بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیاں دیکھی جاسکتی ہیں جنہوں نے اپنے خدشات کی طرف بین الاقوامی توجہ مبذول کرانے کے لیے احتجاج، آگاہی مہم اور دیگر اقدامات کئے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کیے گئے اقدامات نے بالآخر تارکین وطن سکھوں میں خالصتان تحریک کی حمایت کو تقویت دی۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی حکمت عملی نے ایک مقامی تنازعے کو ایک عالمی مسئلہ بنادیاہے کیونکہ سکھ تنظیموں اور کمیونٹی گروپوں نے بین الاقوامی فورمز اور حکومتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ نتیجہ خیز سرگرمیوں سے بھارت پر سفارتی اور سیاسی دباو بڑھ گیا اور پنجاب کا مسئلہ عالمی سطح پر اجاگر ہوا۔مبصرین نے کہا کہ سکھوں کی شناخت اور سیاسی بیداری گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پوری دنیا میں مضبوط ہوئی ہے، بیرون ملک مقیم سکھوں نے تاریخی یادداشت کو محفوظ رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے اور اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ بھارت بات چیت اور جمہوری طریقوں سے اقلیتوں کی شکایات کو دور کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب میں اندرونی بدامنی کس طرح بین الاقوامی تشویش کا معاملہ بن گئی جس سے طویل مدتی تناو پیدا ہوا جو بیرون ملک بھی دیکھاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششوں سے اکثر الٹے نتائج برآمد ہوتے ہیں، یہ مزاحمت کو ہوا دیتی ہیں اور حمایت کو متاثرہ علاقے سے باہر تک پھیلاتی ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سکھوں کی سرگرمیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ حل طلب سیاسی شکایتیں سرحدیں عبورکرکے بین الاقوامی مسائل بن سکتے ہیں۔





