بھارتی پروپیگنڈا سےانٹیلیجنس ناکامی بے نقاب، دنیا پاکستان کے کردار کی معترف

سرینگر:ایک طرف عالمی برادری ایران اور امریکہ کے درمیان امن عمل میں ثالثی پر پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہ رہی ہے، وہیں بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے ایک بار پھر اپنی روایتی پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم تیز کر دی ہے۔ تاہم اس مرتبہ یہ پروپیگنڈا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی انٹیلیجنس کی مکمل ناکامی کو خود ہی بے نقاب کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق، اپریل 2025 میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے حوالے سے این آئی اے کے چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرحد پار سے ڈرونز کے ذریعے ضلع بارہ مولہ کے اندرونی علاقوں میں اسلحہ پہنچایا گیا۔ چالان میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ 2022 سے 2024 کے درمیان ہیومن انٹیلیجنس (ہیومنٹ) میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے باعث نام نہاد "دہشت گرد نیٹ ورک” بغیر کسی رکاوٹ کے کام کرتا رہا۔ این آئی اے کا کہنا ہے کہ اب روایتی راستوں کی بجائے ڈرونز کا استعمال کیاجارہاہے۔ماہرین اور آزاد مبصرین نے اس چالان کے وقت اور اعتبار کو مشکوک قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس آسانی سے ڈرونز بھارتی سیکیورٹی کے کئی حصار کو عبور کر گئے ، جہاں دس لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں اور جدید نگرانی کا نظام موجود ہے ۔ وہ بھارتی انتظامیہ کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ چالان نئی دہلی کی ایک مایوس کن کوشش ہے تاکہ ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو ملنے والی عالمی پذیرائی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
واضح رہے کہ ٹیکنیکل نگرانی پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور مقامی قبائل خاص طور پر گجر اور بکروال جو پیر پنجال خطے میں انٹیلیجنس کا اہم ذریعہ تھے، کو نظرانداز کرنے سے انٹیلیجنس کا خطرناک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ ظلم وتشدد، جعلی مقابلوں اور فوجی کارروائیوں سے قابض افواج اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ فالز فلیگ آپریشن کا ایک واضح ثبوت ہے، جس کا مقصد فوجی آپریشن جاری رکھنا، کشمیریوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا، آزادی کی حق پر مبنی تحریک کو بدنام کرنا اور پوری ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا ہے۔یہ پروپیگنڈا ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ بھارت عالمی سطح پر پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو برداشت نہیں کر سکتا اور اپنی ناکامیوں اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کو چھپانے کے لیے بے بنیاد الزامات کا سہارالیتا ہے۔






