بھارتی دفاعی تجزیہ کار پاکستانی پالیسی سازوں کے معترف
نئی دہلی: سینئر بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے پاکستانی پالیسی سازوں کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے برعکس پاکستان بخوبی سمجھتا ہے کہ امریکہ سے کب ہاتھ ملانا ہے اور کب دوری اختیار کرنی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پروین ساہنی نے ایک حالیہ انٹرویو میں خطے کی موجودہ صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہنری کسنجر کے مشہور قول’ ’امریکہ سے دشمنی خطرناک ہو سکتی ہے لیکن دوستی مہلک ہے“ کا حوالہ د یتے ہوئے کہا کہ بھارت نے بالکل یہی کیا ہے کیونکہ ہم امریکہ کے اتحادی بنے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہم سے بالکل متضاد حکمتِ عملی بنائی کیونکہ وہ بخوبی سمجھتا ہے کہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکہ سے کب ہاتھ ملانا ہے اور کب دوری اختیار کرنی ہے۔پروین ساہنی نے کہا کہ پاکستان کی منفرد سفارتی صلاحیت کو بڑی عالمی طاقتوں بالخصوص چین اور روس کےقبول کرنے کی وجہ سے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے پاس ادارہ جاتی مہارت ایک ایسا عنصر ہے جس نے اسے امریکہ اور ایران کے لیے سب سے زیادہ قابلِ عمل ثالث بنایا۔ا±نہوں نے کہا کہ بھارت نے جو سب سے بڑی غلطی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے سوچا کہ امریکہ بھارت کو برابر کا ساتھی سمجھے گا لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا۔بھارت تنہائی سے بچنے کیلئے پاکستان کی برکس میں شمولیت کی حمایت کرے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال میں پاکستان کی مضبوط پوزیشن کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت پیچیدہ خارجہ پالیسی کو نیویگیٹ کرنے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے اور ایک مستقل حکمتِ عملی کو برقرار رکھتی ہے جس سے پاکستان علاقائی تعلقات پر سمجھوتہ کیے بغیر امریکہ کے ساتھ مو¿ثر طریقے سے روابط قائم کر سکتا ہے۔انہوں نے بھارتی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے طویل مدتی پالیسی بنانے کے بجائے بس امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر رکھنے پر توجہ دی جس کی وجہ سے اب عالمی توجہ بھارت سے ہٹ کر یوریشیا کی طرف مبذول ہو گئی ہے اور صورتِ حال پاکستان کے حق میں بدل رہی ہے۔پروین ساہنی نے کہا کہ اس بدلتی ہوئی صورتِ حال میں پاکستان کو 3 بنیادی عوامل کے امتزاج کی وجہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہے، یہ 3 بنیادی عوامل ملک کا جغرافیائی محلِ وقوع، بطور اسلامی ملک حیثیت اور جوہری ہتھیاروں کی موجودگی ہیں۔






