دہلی میں سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ، کسان سی جے پی کے احتجاج میں شامل

نئی دہلی: لداخ سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے دہلی کے جنتر منتر پر غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی جس سے کاکروچ جنتاپارٹی کے احتجاج کو نئی تحریک ملی ہے جو امتحان میں بے ضابطگیوں اور NEET پیپر لیک پر بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 20 جون سے جاری احتجاج ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا کیونکہ سینکڑوں طلباء، نوجوان، کسان رہنمااورکھاپ کے نمائندے احتجاج میں شامل ہوگئے۔ بھوک ہڑتال شروع کرنے سے پہلے سونم وانگچک اور سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے راج گھاٹ کا دورہ کیا اور مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔اجتماع کا آغاز دو منٹ کی خاموشی سے ہوا۔ اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے سونم وانگچک نے کہا کہ وہ حکومت کی بے عملی کے باعث ایسا کرنے پر مجبورہوئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے مودی حکومت نے بھوک ہڑتال پر مجبور کیا کیونکہ ہمارا کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی اچھے مقصد کے لیے خود کو قربان کرنا بہتر ہے اس لیے میں نے یہ بھوک ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم 40 سال سے ان کے دل کے قریب ہے اور یہ تحریک صرف ایک مسئلے تک محدود نہیں ہے۔آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدرنیہا ، تنظیم کے اراکین اورجواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر نے بھی وانگچک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔سی جے پی کے بانی ابھیجیٹ دپکے نے کہا کہ کسانوں کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے تقریباً 500 کسانوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ کسان لیڈروں اور کھاپ پنچایت کے نمائندوں بشمول سرو کھاپ، کنوینر اوم پرکاش دھنکھر اور کھاپ لیڈر اتار سنگھ کدیان نے اجتماع سے خطاب کیا اور آج سے کسانوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار دھڑے) کے ترجمان انیش گوانڈے نے کئی اپوزیشن جماعتوں کی حمایت کا دعوی کیا اور احتجاج میں شامل ہوئے۔







