بھارت

آپریشن سندور میں مارے جانیوالے فوجیوں کے ناموں کا اجرا ، مودی حکومت پر اپوزیشن کی کڑی تنقید

وزیر دفاع پارلیمنٹ کو گمراہ کرتے رہے ہیں، کانگریس

نئی دلی:
بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی حکومت کی طرف سے گزشتہ برس آپریشن سندور میں مارے جانے والے چھ فوجیوں کے نام باضابطہ طور پر جاری کیے جانے کے بعد ملک میں سیاسی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حزب اختلاف نے کہا ہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ پارلیمنٹ کو گمراہ کر تے رہے ہیںکیونکہ انہوںنے پہلے کہا تھا کہ لڑائی میں ایک بھی فوجی کی جان نہیں گئی ہے۔کانگریس کے سینئر رہنما منیش تیواری نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر آپریشن سندور کے دوران چھ فوجی مارے گئے تھے تو کیا وزیر دفاع اس وقت حقائق سے بے خبر تھے یا پھر انہوںنے دانستہ طور پر پارلیمنٹ کو غلط معلومات فراہم کی تھیں۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ اگر حکومت کے پاس مزید حقائق موجود ہیں تو آئندہ مونسون اجلاس میں انہیں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرے۔کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے بھی مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر راج ناتھ سنگھ کو اپنے ہی محکمے کے حقائق معلوم نہیں تھے تو یہ انکی نااہلی ہے اور اگر وہ حقائق جانتے ہوئے بھی غلط بیان دے رہے تھے تو یہ پارلیمنٹ اور عوام کو گمراہ کرنے کے متراد ف ہے ۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ برس 28جولائی کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں آپریشن سندور پر تقریبا 16گھنٹے طویل بحث کے دوران حزب اختلاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو یہ پوچھیں کہ کیا اس آپریشن میں ہمارے کسی فوجی کو نقصان پہنچا؟ اس کا جواب ہے نہیں، ہمارے کسی بھی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔”
بی جے پی حکومت نے جمعہ کے روز پہلی مرتبہ آپریشن سنددر میں مارے جانے والے چھ فوجی اہلکاروں کے نام قومی جنگی یاد گار ”نیشنل وار میموریل ) کی رول آف آنر دیوار پر درج کیے۔ ان میں بھارتی بری فوج کے پانچ جبکہ فضائیہ کا ایک اہلکار شامل ہیں۔مارے جانے والے فوجیوں کے نام یہ ہیں۔ صوبیدار میجر پون کمار، رائفل مین سنیل کمار ، لانس نائیک دنیش کمار، مودی حکومت کی متنازعہ اگنی ویر اسکیم کے تحت بھرتی ہونے والا اہلکار مرلی نائک، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور فضائیہ کا سارجنٹ سریندر کمار ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button