مضامین

بھارتی پراکسی وار، مسئلہ کشمیر اور پاکستان کا عزم

ارشد میر

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے گذشتہ روز پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آوٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی نوعیت کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ سال مئی کی جنگ میں شرمناک شکست کے بعد بھارت پاکستان کے امن اور استحکام کو سبوتاڑ کرنے کے لیے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج مغربی سرحدوں سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تاکہ دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر قائم ہے اور کشمیریوں، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور انصاف کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حالیہ عالمی تبدیلیوں کے دور میں پاکستان نے اپنی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرائے ہیں اور ایرانی صدر کے حالیہ دورہ پاکستان سے بھی خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کردار کا اعتراف ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان بحریہ کو مزید مضبوط، موثر اور جدید دفاعی قوت بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ وہ نہ صرف قومی دفاع کو یقینی بنا سکے بلکہ وسیع بحری خطے میں استحکام کے لیے بھی موثر کردار ادا کرے۔

گذشتہ دو برسوں کے دوران شاندار عسکری اور سفارتی کامیابیوں کے باوجود پاکستان اپنی تاریخ کے ایک اہم امتحانی موڑ پہ ہےجہاں ایک طرف شرق و غرب کی دونوں سرحدات پر دھوکے باز اور بدطینت دشمنوںکی خفیہ اور علانیہ سازشیں اور حملے اس کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں وہیں ، وہیں دوسری طرف پاکستان کی قوم اور اس کے مسلح افواج اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ڈٹی ہوئی ہیں۔ گذشتہ سال جنگ مئی میں پاکستان کی شاندار فتح اور اسکے بعد افغانستان میں چھپے بیٹھے بھارتی پروردہ خونی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو جرات اور عزم کے ساتھ نشانہ بنائے جا نے نے ثابت کیا کہ جب قوم متحد اور پرعزم ہوتو کسی بھی دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

بھارت کی خفیہ اور منظم سازشیں اب ایک نیا مرحلہ اختیار کر چکی ہیں جن کا مقصد پاکستان کو عسکری و سفارتی سطحوں پر حاصل شدہ شاندار کامیابیوں کے اثرات اسکی معیشت اور داخلی استحکام پر پڑنے اور اسکے علاقائی اور عالمی سطح پر ابھرنے اور عملی طور پر Net Security Provider اور Net Stabilizer بننے کو مسلہ کشمیر کے حل پر اثر انداز ہونے سے روکنا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کا موقف ہمیشہ واضح اور دوٹوک رہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوب رائے کی بنیاد پر اس مسلہ کو حل کیا جائے کہ خطے میں دیرپا استحکام اور امن و ترقی کا واحد کلیہ یہی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف انسانیت کا مسلہ ہے بلکہ خطے میں مسلسل کشیدگی، دشمنی، نفرت، مخاصمت ، جنگی ماحول، انسانی جانوں اور وسائل کے ضیاع کی وجہ اور ایٹمی جنگ کی ہولناک تباہی کا بھی سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے ہی اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے کوشش کرتا آیا ہے مگر بھارت جموں و کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو برقرار اور پاکستان کو اس سے دور رکھنے کی دھن میں سب کچھ داؤ پر لگا رہا ہے۔ اس کی جانب سے جاری پراکسی وار اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس کا قیام ایک منظم سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کی داخلی سالمیت کو کمزور کرنا ، اسے کشمیریوں کی جائز حمایت سے باز اورمسلہ کشمیر کی فریقانہ حیثیت سے دستبردار کرانا اور خطے میں ایسی صورتحال پیدا کرنا ہے جس میں اسکی تھانیداری چلے۔اس مقصد کے تحت وہ گذشتہ اڑھائی دہائیوں سے پاکستان میں بدترین دہشت گردی کرا رہا ہے جس کے نتیجہ میں اب تک 70 ہزار پاکستانی شہید ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو قریبا 100 بلین ڈالر کا نقصان پہنچا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں اور ٹارگیٹ کلنگس پہ بھارتی میڈیا جس طرح خوشی کا اظہار کرتا ہے اور جس طرح بی جے پی کے لیڈران یہاں تک کہ حکومتی وزراء اور کارندے اس کاکریڈٹ لیتے ہوئے کہتے ہیں کہ” دیکھا گھس کر مار دیا” اس بات کا ثبوت ہی نہیں بلکہ اعتراف ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرارہا ہے۔ آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ سابق بھارتی آرمی سربراہاں، دلبیر سنگھ سہاگ اور بپن روات کھل کر پاکستان میں دہشت گردی کرانے کی باتیں کرچکے ہیں۔ بپن راوت، جنھیں ہندو قوم پرستانہ اور پاکستان مخالف شدت پسندانہ نظریہ رکھنے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی تاریخ میں پہلی بار چیف آف ڈیفنس اسٹاف بھی بنادیا تھا ،نے دسمبر 2018 میں پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ "They must feel the same pain.” ۔ اسی طرح دلبیر سنگھ نے 2016 میں ریٹائر منٹ کے بعد ایک مذاکرے میں اسی خونی اور شیطانی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ” Let them (Pakistanis) feel the pain at their own soil”۔یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارت اپنے اندرونی مسائل کی پردہ پوشی اور شیطانی اسٹریٹیجک، سفارتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان میں دہشت گردی اور پراکسی وار کا استعمال کر رہا ہے۔

بلاشبہ پاکستان کی فوج اور قوم اس چیلنج کا مقابلہ جرات اور عزم کے ساتھ کررہی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ ایک قومی جہاد ہےجس میں ہر پاکستانی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے کہ وہ ملک کے دفاع اور سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی سخت کارروائیاں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ ستائش ہیں اور ان کا نتیجہ بھی سامنے ہے جواس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ایک مضبوط اور پرعزم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے ۔

دشمن کی خفیہ کارروائیاں اور پراکسی وار صرف ایک فوجی مہم نہیں بلکہ کئی شکلوں کا ایک بہت بڑا اور منظم مصوبہ ہےجس کا مقصد پاکستان کو کشمیر سے دور رکھنے کے علاوہ اس کے داخلی استحکام کو کمزور کرنا، معاشرتی تفرقہ پیدا کرنا اور معاشی ترقی کو روکنا ہے۔ بھارتی حکومت نے 2010 میں اپنی خفیہ ایجنسی "را” کے اندر ایک ایسی شاخ قائم کی تھی جسکو سی پیک کو ثبوتاژکرنے کا کام سونپ دیا گیا تھا۔ ابتداء ہی میں اس کو 10 ارب روپے کا بجٹ دیا گیا تھا۔ اسکے بعد ہم سب نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے پروردہ دہشت گردوں کے ذریعہ کتنی بار کراچی، کوئٹہ اورگوادر سے لیکر کراکرم ہائی وے تک چینی انجینئرز اور سی پیک سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح گذشتہ کئی برسوں سے بطور خاص خلیجی ملکوں میں مزدور پیشہ پاکستانیوں اور افغانیوں کو بڑی رقوم کی لالچ دیکر پھنسایا جاتا ہے اور انھیں پاکستان میں مختلف اشخاص کو قتل کرنے کا ہدف دیا جاتا ہے۔ ایک ہدف کے لئے ایک گروپ قائم کیا جاتا ہے ، اسکا دوسرے گروپ اور اسکے ہدف کا پتہ ہوتا ہے اور نہ پس منظر میں اصل بھارتی کرداروں کے بارے میں ۔

حالات کی یہ تمام صورتیں بتاتی ہیں کہ پاکستان کو اپنی سلامتی اور داخلی استحکام کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔ چند سال پہلے تک دہشت گردی ایک بڑے مسئلے کے طور پر سامنے آئی تھی مگر پاکستانی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی سخت کارروائیوں سے اب اس کا دائرہ محدود اور قابو میں آ چکا ہے۔ یہ قابلِ فخر ہے کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بہت سے کامیاب آپریشنز کیے گئے ہیں اور دہشت گردوں کا ایک بڑا حصہ مارا گیا ہے یا گرفتار کیا گیا ہے۔ مگر دشمن کی سازشیں اب بھی جاری ہیں اور وہ اپنی پراکسی کارروائیوں کے ذریعے ملک کے اندر داخلی خلفشار اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی قوم کا اتحاد ہے۔ یہی اتحاد دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنا سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ فوج، سیاسی قیادت اور عوام ،سب مل کر ملک کو اندرونی اور بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے ایک ہو جائیں۔ کیونکہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں بلکہ ایک نظریہ اور ایک امید ہے۔ اسکے ساتھ جہاں مظلوم کشمیریوں کو امیدیں وابستہ ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں میں محبت کا مرکزہے وہیں، اسکے خلاف دشمنوں کی بھی کمی نہیں ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسکے نظریہ اور صلاحیت میں کتنا اثر ہے۔

عالمی بدلتی ہوئی صورت حال میں، خاص طور پر خطے کے تناظر میں، بحری سلامتی اور سمندری تجارت کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جنگ مئی میں بدترین شکست کھانے کے بعد بھارت کے دفاعی حلقوں میں یہ خوش فہمی پائی جاتی ہے کہ بری اور فضائی نہ سہی ، بحری جنگ میں پاکستان کے خلاف کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔اس سوچ کےتحت بھارت اپنی بحری قوت بڑھا رہا ہے تاہم پاکستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ حالیہ عرصہ میں ہنگو آبدوزوں کے اضافے اور جدید میزائیلوں کے تجربات نے دشمن کو پیغام پہنچا دیا ہے کہ وہ اس شعبہ میں بھی پاکستان کو مات دینے کی حسرت میں ہی رہے گا۔ سمندری راستوں کی آزادی اور سلامتی کو یقینی بنانے کےیہ اقدامات خطے میں امن، اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے اہم ہیں کیونکہ آزادانہ بحری آمدورفت عالمی تجارت کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ مستقبل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں اور چیلنجز، دشمن کی خفیہ سازشیں، پراکسی واراور داخلی خلفشار ہیں۔ بھارت جانتا ہے کہ مسلہ کشمیر پر اسٹیٹس کو کو برقرار اور پاکستان کو دور رکھنے کے لئے یہ سب ضروری ہے چنانچہ پاک حکومت اور فوج کے ساتھ ساتھ سیاسی و مذہبی جماعتوں اور بحیثت مجموعی پوری قوم کوسمجھنا ہوگا کہ امن اور استحکام صرف فوجی طاقت سے نہیں آتا بلکہ قومی اتحاد، سیاسی استحکام اور سفارتی کوششوں کا اس میں شامل ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button