قابض حکام نے میرواعظ کو امام باڑہ بمنہ میں خطاب سے روکنے کے لئے گھر میں نظر بند کر دیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظ عمر فاروق کو امام باڑہ بمنہ میں خطاب سے روکنے کے لئے گھر میں نظر بند کر دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میرواعظ کوحضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے امام باڑہ میں خطاب کرناتھا تاکہ ان کی قربانی، سچائی، انصاف اور استقامت کے لازوال پیغام کو اجاگر کیا جاسکے۔ تاہم حکام نے انہیں اپنے گھرسے نکلنے نہیں دیا اور اجتماع میں شرکت سے روک دیا۔ میرواعظ نے ایک بیان میں کہا کہ کشمیر ہمیشہ سے باہمی احترام، بھائی چارے اور مذہبی ہم آہنگی کا مرکز رہا ہے جہاں اہل بیت (رضی اللہ عنہم) سے محبت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک صحابہ کے لیے تعظیم لوگوں کے مشترکہ روحانی ورثے کا ایک لازمی جز ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب معاشرہ متعدد چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے، اتحاد، تحمل، باہمی احترام اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی تفرقہ انگیز قوت کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن بقائے باہمی کی صدیوں پرانی روایات کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو کہ کشمیری عوام کی دیرینہ خصوصیات ہیں۔میرواعظ نے معاشرے کے تمام طبقوں سے اپیل کی کہ وہ وقار، صبر اور باہمی احترام کو برقرار رکھیں اور سچائی، ہمدردی، انصاف اور اتحاد پر ثابت قدم رہ کر کربلا کے لازوال پیغام کا احترام کریں۔میرواعظ کی مذہبی اور سماجی مصروفیات پر مسلسل پابندیوں نے ان کے پیروکاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات کومقبوضہ علاقے میں مذہبی آزادی کو سلب کرنے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہاہے۔






