APHC

بھارت نے حریت رہنماﺅں سمیت 3ہزار سے زائد کشمیری جیلوں میں بند کر رکھے ہیں

سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ حریت رہنماوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو غیر قانونی طور پر جیلوں میں بند کیا گیا ہے اور بھارتی حکام اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ان کی نظر بندی کو طول دے رہے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حریت رہنماوں، نوجوانوں اور کارکنوں سمیت 3ہزار سے زائد کشمیری بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، سٹیٹ انویسٹی ایجنسی (ایس آئی اے) اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) وغیرہ کو کشمیریوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے غیر قانونی طور پرنظر بند حریت رہنماوں ، کارکنوں اور دیگر لوگوں کے عزم وہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت بے انتہا جبر کے باوجود انکے حوصلے توڑنے میں ناکام رہا ہے۔
ترجمان نے بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں جاری محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں اور نوجوانوں کی گرفتاری اور انہیں تھانوں اور فوجی کیمپوں میں طلب کرکے ہراساں کرنے کی کارروائیوں کو ریاستی دہشت گردی کی بدترین شکل قرار دیا۔ ترجما ن نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں تعینات بھارتی فورسز اہلکاروں کو کالے قانون ”آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ “ کے تحت بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ حریت کانفرنس کے غیر قانونی طو رپر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمدیٰسین ملک، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف الدین احمد، راجہ معراج الدین کلوال، فاروق احمد ڈار، شاہد الاسلام، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد، بلال صدیقی اور دیگر نظر بندو ں کی رہائی کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button