مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر سے نظامِ حکمرانی متاثر ہو رہی ہے: نائب وزیر اعلیٰ

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرقبضہ جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلی سُریندر چودھری نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کے زیراہتمام نئی دہلی میں مقبوضہ علاقے کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے ہونے والا احتجاج کشمیری عوام کے اجتماعی جذبات کی نمائندگی اور بھارتی حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی کرائے گا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جموں میں پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سریندرچودھری نے کہا کہ جموں وکشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی میں مسلسل تاخیر نے نظامِ حکمرانی کو متاثر کیا ہے اور منتخب حکومت کے اختیارات کو محدود کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بھارتی وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ پر کشمیریوں سے یہ وعدہ کیا تھا کہ مکمل ریاستی حیثیت بحال کی جائے گی، تاہم منتخب حکومت کے عہدہ سنبھالنے کے تقریباً دو سال بعد بھی یہ وعدہ ادھورا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت سے محروم رکھنا کشمیری عوام کی اجتماعی خواہشات کی توہین ہے۔ "یہ جمہوری عمل میں شریک عوام کے مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ریاستی حیثیت سے انکار کا مطلب عوام کو ان کے جمہوری حقوق سے محروم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کو مسلسل امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔






