دلی کے رہائشی عبدالرحیم کو بھارتی شہریت کے باوجود ملک بدری کا سامنا
بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں مارچ سے زیر حراست ایک مسلمان شخص عبدالرحیم کی ملک بدری کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جسے حکام نے بنگلہ دیشی شہری قرار دیا تھا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس سورج گووندراج نے فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کوعبدالرحیم کی شناخت کی تفصیلی تصدیق کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے 14 جولائی کو اگلی سماعت تک اسکی ملک بدری پر پابندی عائد کر دی ہے۔بنگلورو کے رہائشی47 سالہ عبدالرحیم کا دعویٰ ہے کہ وہ 1979 میں دہلی کے علاقےسیما پوری میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پوری زندگی بھارت میں گزاری ہے۔ ان کے پاس متعدد دستاویزات بشمول پیدائش کا سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ، پین کارڈ، ووٹر آئی ڈی اور ڈرائیونگ لائسنس موجود ہیں جو ان کے بھارتی شہری ہونے کے دعوے کی تائید کرتے ہیں۔ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انکے موکل کی حراست بھارتی آئین کے آرٹیکل 14، 21 اور 22 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور حکام نے بغیر کسی مناسب انکوائری کے کارروائی کی۔اس کیس نے بھارت میں "غیر قانونی تارکین وطن” کی شناخت کی آڑ میں مسلمانوں کو جبری طور پر نشانہ بنا۔ے اور ہراسانی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اجاگر کیا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نظامی تعصب کی عکاس ہیں اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے لیے قانونی عمل اور تحفظات کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتی ہیں۔






