اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کا بھارت میں انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل پر اظہار تشویش

نئی دہلی: اقوام متحدہ کے تین خصوصی نمائندوں نے بھارتی حکومت کو خط لکھا ہے جس میں بھارتی الیکشن کمیشن کی طرف سے انتخابی فہرستوں کے اسپیشل انیشیٹیو ریویژن (SIR) پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے مسلمان، بنگالی نژاد لوگ اور دیگر اقلیتیں متاثرہورہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ خط یکم مئی 2026 کواقلیتی امورکے بارے میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، آزادی اظہار رائے کے حق کے فروغ اور تحفظ کے خصوصی نمائندے اور مذہب یا عقیدے کی آزادی سے متعلق خصوصی نمائندے کی طرف سے لکھاگیا۔اقوام متحدہ کے ضوابط کے تحت خط کو عام کرنے سے پہلے بھارتی حکومت کوجواب دینے کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن اسپیشل انیشیٹو رویژن کے ذریعے انتخابی فہرستوں سے لاکھوں ناموںخاص طور پر اقلیتی گروپوں کے ارکان کو خاج کررہاہے۔خط میں ان الزامات کو اجاگر کیا گیا کہ ووٹرفہرستوں پر نظرثانی کا عمل مبہم ہے اور اس میں مصنوعی ذہانت پرمبنی نظام پر انحصارکیا جاتاہے، ووٹروںکو دستاویزات جمع کرانے کے لیے ناکافی وقت دیا جاتا ہے، اپیل کے موثر طریقہ کارکا فقدان ہے اور انتخابی فہرستوں سے ناموں کو حذف کرنے کے لئے ناموں میں اسپیلنگ کے فرق جیسے معمولی نقائص کا سہارا لیا جارہا ہے۔ماہرین نے کہا کہ وہ خاص طور پر ان رپورٹس سے پریشان ہیں کہ اہل ووٹروں کو غلط طریقے سے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے۔ خط میں مغربی بنگال کی رپورٹوں کا حوالہ دیا گیا جہاں مسلمان ووٹر غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ خط میں الزامات کا حوالہ دیا کہ نندی گرام حلقے میں حذف کیے گئے ووٹروں میں سے تقریباً 95 فیصد مسلمان ہیں حالانکہ حلقے میں مسلمان ووٹروں کی تعداد صرف 25 فیصد ہے۔خط میں بہار میں ایس آئی آر کے دوران ظاہر کئے گئے خدشات کا بھی حوالہ دیاگیا جہاں اس عمل سے بڑے پیمانے پر مسلمان اور دیگر اقلیتیں حق رائے دہی سے محروم ہو سکتی ہیں۔خط میں اس الزام کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مصنوعی ذہانت مبنی نظام کو ووٹروں کے ڈیٹا میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیاگیا ہے جس سے شفافیت، غلطیوں اور ممکنہ تعصب کے بارے میں خدشات پائے جاتے ہیں۔







