مقبوضہ جموں و کشمیر

گلگت میں حریت وفد کی وزیر خرانہ اوردیگر سے ملاقاتیں، انجمن امامیہ گلگت بلتستان کا دورہ


گلگت : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں ایک وفد نے گلگت بلتستان کے وزیر خزانہ محمد علی اختر اور سابق وزیر ایمان شاہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملاقاتوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ صورتحال، تحریکِ آزادی کشمیر اور 19 جولائی یومِ الحاقِ پاکستان کی تاریخی اہمیت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حریت قیادت نے کہا کہ 19 جولائی 1947 کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل ہے جب پاکستان کے ساتھ ریاست جموں و کشمیر کے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی جو کشمیری عوام کے جذبات اور امنگوں کی حقیقی ترجمان ہے۔کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ 78 سال سے اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور بھارتی جبر و استبداد کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی و عوامی حمایت کشمیریوں کے لیے حوصلے کا باعث ہے۔وزیر خزانہ محمد علی اختر اور سابق وزیر ایمان شاہ نے کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد اور حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہر سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے 19 جولائی یومِ الحاقِ پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن کشمیری عوام کے تاریخی فیصلے اور پاکستان سے ان کی وابستگی کی علامت ہے۔ حریت وفد نے دونوں رہنماوں کو 19 جولائی کی ریلی میں شرکت کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دریں اثناءغلام محمد صفی کی سربراہی میں حریت کانفرنس کے وفد نے انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا جہاں انجمن کے صدر سید شرف الدین، جنرل سیکرٹری حاجی غلام عباس، ڈپٹی جنرل سیکرٹری کوثر حسین، نائب صدر نعیم سلیمان، سیکرٹری ترقیاتی امور الحاج طارق عباس، سینئر نائب صدر سخی احمد جان اور دیگر عہدیداران نے وفد کا خیر مقدم کیا۔ملاقات میں مقبوضہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال، بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اور 19 جولائی 1947ءکی تاریخی قراردادِ الحاقِ پاکستان کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کنوینئر غلام محمد صفی نے کہا کہ تحریکِ پاکستان اور تحریکِ آزادی کشمیر میں علمائے کرام نے ہمیشہ تاریخ ساز اور قابلِ ستائش کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی قیادت نے ہر دور میں حق، آزادی اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے کشمیری عوام کے حوصلے بلند کیے ہیں جس پر پوری قوم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام امام حسینؓ کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں۔ غلام محمد صفی نے کہا کہ سرینگر میں 19 جولائی 1947ءکی قراردادِ الحاقِ پاکستان کی منظوری کشمیری عوام کے اجتماعی عزم اور پاکستان کے ساتھ ان کے تاریخی، نظریاتی اور جذباتی رشتے کی روشن علامت ہے۔مرکزی انجمن امامیہ گلگت بلتستان کے صدر سید شرف الدین اور جنرل سیکرٹری حاجی غلام عباس نے کہا کہ ہم مظلومین کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ جب معاملہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کا ہو تو یہ انجمن ہر محاذ پر ان کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ سمجھتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں ہی دیرینہ مسئلہ کشمیر کا حل دیکھتے ہیں۔انہوں نے 19 جولائی کی تقریب کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس کی کامیابی کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے سیکرٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، راجہ خادم حسین شاہین، اعجاز رحمانی، شیخ عبدالماجد، زاہد صفی اور زاہد اشرف شامل تھے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button