نئی دلی:عمر عبداللہ کی قیادت میں این سی کا احتجاج
پہلے ریاستی حیثیت، پھر خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ
![]()
نئی دہلی:بھارت کے غیر قانونی طور پر زیرقبضہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ریاستی حیثیت کی بحالی صرف پہلا قدم ہے، اور نیشنل کانفرنس کی جدوجہد جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی بحالی تک جاری رہے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نیشنل کانفرنس کی قیادت میں نئی دہلی میں جنت منتر پر ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے پہلے ریاستی حیثیت اور پھر خصوصی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہرایا اور اسے پارٹی کا مرکزی سیاسی پیغام قرار دیا۔عمر عبداللہ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں احتجاج کا مقصد مودی حکومت پر جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے وعدے پورا کرنے کےلیے دبائو بڑھانا ہے۔عمر عبداللہ نے کہا کہ پارٹی "دہلی میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوئی” جب تمام دیگر راستے ختم ہو گئے۔ انہوں نے کہا، "ہم گزشتہ دو سال سے مسلسل بھارتی حکومت کو اس کے وعدوں کی یاد دلاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کیا کہ این سی نے منتخب اسمبلی کے پہلے اجلاس میں ریاستی حیثیت اور خصوصی حیثیت و آئینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک خصوصی قرارداد منظور کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا، "ہم اپنامطال ہے ترک نہیں کریں گے۔”یہ احتجاج جنت منتر پر شروع ہوا لیکن جلسے کی اجازت نہ ملنے کے بعدمظاہرین کو منتشر کر دیا گیا۔ این سی رہنماؤں نے بعد ازاں کانسٹی ٹیوشن کلب کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پولیس نے مظاہرین پرآنسو گیس کا استعمال کیا۔عمر عبداللہ دیگر این سی رہنماؤں کے ہمراہ آٹو رکشا میں احتجاجی مقام پر پہنچے۔اس احتجاج کو ایک طویل سیاسی مہم کا آغاز قرار دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا، "ہم نے یہ احتجاج بھارتی حکومت کو ان کے وعدوں کی یاد دلانے کے لیے کیا ہے۔ سب کچھ یہاں سے شروع ہوگا۔ پہلے ریاستی حیثیت اور پھر خصوصی حیثیت کی بحالی۔







