سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو نشانہ بنانے پر امریکی سینیٹرز کابین الاقوامی جبر کو جرم قرار دینے کا بل متعارف

واشنگٹن: بھارت کی طرف سے شمالی امریکہ میں سکھ کارکنوں اور سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکی سینیٹرز کے ایک گروپ نے غیر ملکی حکومتوں کے بین الاقوامی جبر کو جرم قرار دینے کے لیے ایک بل متعارف کرایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیموکریٹک سینیٹر ایڈم شیف اور ریپبلکن سینیٹر جان کرٹس کی طرف سے متعارف کرائے گئےبل ”سٹاپ ٹرانس نیشنل ریپریشن ایکٹ2026 “ میں پہلی بار بین الاقوامی جبر کو ایک جرم قراردیاجائے گا۔ مجوزہ قانون سازی سے امریکی سرزمین پر سیاسی مخالفین اور کارکنوں کوڈرانے دھمکانے، ہراساں کرنے یا نشانہ بنانے پر غیر ملکی حکومتوں کے خلاف تحقیقات اور مقدمہ چلانے کے لیے امریکی محکمہ انصاف اور ایف بی آئی کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔بل کے تحت بین الاقوامی جبر کے مرتکب افراد کو 10 سال تک قید اور ایک لاکھ ڈالر تک کے جرمانے کے علاوہ کسی بھی متعلقہ جرم کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون سازی سے ایسے مقدمات کی پیروی میں محکمہ انصاف کے قومی سلامتی ڈویژن کا کردار بھی مضبوط ہوگا۔یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بیرون ملک مقیم ناقدین کو خاموش کرنے کی کوشش کرنے والی غیر ملکی حکومتوں سے نمٹنے کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔بھارت ان الزامات کے بعد کانگریس کی بڑھتی ہوئی جانچ کی زد میں ہے کہ بھارتیحکومت سے منسلک افراد نے امریکہ اور کینیڈا میں سکھ کارکنوں کو نشانہ بنایا۔امریکی محکمہ انصاف نے2024میں بھارتی شہری نکھل گپتا پر وکاش یادو کی ہدایت پر نیویارک میں ایک امریکی سکھ کارکن کو قتل کرنے کی سازش کا الزام لگایا ،وکاش یادوکیشناخت امریکی حکام نے بھارتی حکومت کے ملازم کے طور پر کی جس پر بعد میں کرایے پر قاتل حاصل کرنے، سازش اور منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا۔ کینیڈین حکام نے برٹش کولمبیا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کو ملوث قراردیا۔مجوزہ قانون سازی واشنگٹن میں اس بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے جسے ارکان کانگریس اختلاف رائے کو دبانے اور ناقدین کو اپنی ملکی سرحدوں سے باہرڈرانے دھمکانے کی غیر ملکی حکومتوں کی کوششیںقراردے رہے ہیں۔






