انسانی حقوق کارکن خرم پرویز، صحافی عرفان معراج ضمانت پر رہا

نئی دلی: انسانی حقوق کے معروف کشمیری کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کو بھارتی دالحکومت نئی دہلی کی روہنی جیل سے رہا کر دیا گیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق خرم پرویز اور عرفان معراج کو بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے درج ایک مقدمے میں عدالت کی طرف سے مقرر کردہ ضمانت کی شرائط کو پورا کرنے کے بعد بدھ کو دیر گئے روہنی جیل سے رہا کیا گیا۔
جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی (جے کے سی سی ایس) کے کوآرڈی نیٹر خرم پرویز اور کشمیری صحافی عرفان معراج کو مارچ 2023 میں این آئی اے نے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون”یواے پی اے“ کے تحت درج ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔” این آئی اے“ نے ان دونوں پر بھارت مخالف سرگرمیوں اور آزادی کے ایجنڈے کو فروغ دینے میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے۔
دونوں نے ضمانت کی شرائط کی تعمیل کے بعد رہائی حاصل کی۔خرم پرویز 1ہزار 7سو 3 روزجبکہ عرفان معراج 1ہزار 2سو 19روز زیر حراست رہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے خرم پرویز کو 10 جون کو ضمانت دی تھی۔ انہیں بانڈ جمع کرانے، اپنا پاسپورٹ سرنڈر کرنے، فی الوقت دلی میں ہی رہنے اور کسی قسم کی بیان بازی سے دور رہنے کی شرائط پر ضمانت دی گئی۔





