محبوبہ مفتی کانئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کی حمایت کا اعلان

نئی دہلی :غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے اس تحریک کو آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی جدوجہد قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انصاف اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبے کے حق میں احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جدوجہد بدعنوانی، امتحانی پرچے لیک ہونے اور دیگر ناانصافیوں کی حوصلہ شکنی کرے گی۔کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں مظاہرین گزشتہ ایک ماہ سے جنتر منتر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں اورامتحانی بے حابطگیوں کے معاملے پر جوابدہی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کامطالبہ کر رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ یہ نوجوانوں کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے کیونکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سیاست، امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، بدعنوانی اور خواتین کے خلاف جرائم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ کبھی چندہ چوری، کبھی پرچہ لیک، کبھی زیادتیاں۔ آج بھارت میں بچوں کے مقابلے میں گائیں زیادہ محفوظ ہیں۔انہوں نے بھارتی عدلیہ اور حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طویل احتجاج کے باوجود طلبہ کے جائز خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔20 جولائی کو دہلی میں مظاہرین پر تشدد کی ویڈیوز دیکھنے سے چیف جسٹس آف انڈیا کے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے پاس ویڈیوز دیکھنے کا وقت نہیں۔ ان کے پاس وقت کیوں نہیں؟ کیونکہ انہیں راجیہ سبھا جانا ہے، انہیں گورنر بننا ہے۔ اسی لیے ان کے پاس ان نوجوانوں کے لیے وقت نہیں۔انہوں نے تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، یہ نوجوان ہی تبدیلی لائیں گے۔ اگر آئین کو بچانا ہے تو یہی لوگ اسے بچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے والدین اپنے بچوں کی تعلیم پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں اور اگر نوجوان آج ناانصافی کے خلاف آواز بلند نہیں کریں گے تو ملک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔محبوبہ مفتی نے خبردار کیا کہ اگر آج آئین کو نہ بچایا گیا تو اقتدار میں بیٹھے لوگ باقی ملک کو بھی کھلی جیل میں تبدیل کر دیں گے، جیسا کہ انہوں نے جموں و کشمیر کی صورتحال سے موازنہ کرتے ہوئے کہا۔





