مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے میجر جنرل کو 11کروڑ روپے کے غبن پر سزا سنائی گئی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج کے ایک میجر جنرل کو جموں کے ایک فوجی اسپتال میں ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں تقریباً 11 کروڑ روپے کے غبن کا مجرم پایا گیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی فوج کے میجر جنرل دیویندرا اروڑا کو آرمی ایکٹ کے تحت لگائے گئے 18 الزامات میں سے 16 میں قصوروار پائے جانے کے بعد ملازمت سے برطرف اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ایک سینئر فوجی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرتے ہوئے سمری جنرل کورٹ مارشل (SGCM) نے ریٹائرڈ آرمی میڈیکل کور کے افسر کو جموں کے 166 ملٹری ہسپتال کے کمانڈنٹ کے طور پر اپنے دور میں تقریباً 11 کروڑ روپے کے ادویات اور طبی آلات کی خریداری میں بے ضابطگیوں کا مجرم ٹھہرایا۔کورٹ مارشل جس کی صدارت لیفٹیننٹ جنرل وی سری ہری نے کی جو جنرل آفیسر کمانڈنگ جنوبی بھارت ہیں،ادھم پور میں اختتام پذیر ہوا۔ کارروائی کا حکم شمالی کمان کے جنرل آفیسر کمانڈنگ ان چیف نے دیا تھا۔الزامات میں دھوکہ دہی اورجھوٹا بیان دینابھی شامل ہے۔ ایس جی سی ایم نے افسر کو 18 میں سے دو الزامات سے بری کر دیا۔یہ کیس اگست 2018 سے جنوری 2020 تک جموں کے 166 ملٹری ہسپتال کے کمانڈنٹ کے طور پردیویندر اروڑہ کی مدت ملازمت سے متعلق ہے۔ چارج شیٹ کے مطابق انہوں نے میڈیکل سٹوروں کو زیادہ مقدارمیں اورزیادہ قیمتوں پر خریداری کی اجازت دی جن میں گولیاں، جیلز، مرہم، ڈریسنگ اور طبی آلات شامل ہیں۔ان پرادویات اور طبی آلات کی دستیابی کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام تھا۔






