بھارت

بہتے ہواخون اوربڑھتی ہوئی مایوسی ماو نوازوں کے خلاف بھارت کے ناکام جنگ کو ظاہرکرتی ہے

نئی دہلی : بھارت کا یہ دعویٰ کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی کو شکست دے دی گئی ہے، فورسز اہلکاروں کے بہتے ہوئے خون اور قبائلی آبادی کی کچلی ہوئی امیدوں میں لتھڑا ہوا ایک بھیانک مذاق ہے کیونکہ 2026 میں بھی بھارت بھر میں ماو نواز تشدد جاری رہا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نئی دہلی کا فتح کا اعلان کرنے اور ریڈ کوریڈور کو” قابل رحم باقیات“ میں تبدیل کرنے کے دعوے کے باوجود ماو نواز مختلف حربوں کے ذریعے شورش کو برقرار رکھے ہوئے ہیں جو بھارتی حکومت کے فتح کے اعلان کا منہ چڑھاتے ہیں۔ڈسٹرکٹ ریزرو گارڈ ز(DRG) کے اہلکاروں پر مسلسل بارودی سرنگوں کے حملے سرکاری جھوٹ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ جنوری 2025 کیبیجاپور کی کارروائی میں ایک بارودی دھماکے میں ڈی آر جی کے آٹھ اہلکار اور ایک ڈرائیور ہلاک ہوگیا۔ ماﺅنوازوں نے صرف 2026 کے اوائل میں کم از کم نو دھماکے کیے ہیں۔ بارودی سرنگیں ان کا ایک پسندیدہ ہتھیار بنی ہوئی ہیں کیونکہ ان علاقوں میں بھارتی فورسز کی بڑی تعداد تعینات ہے۔ اگرچہ2026 کے اوائل سے مارچ کے آخر تک 42 واقعات میں مجموعی طور پر صرف چھ اموات ہوئیں جن میں پانچ شہری اور ایک فورسز اہلکارشامل ہے جسے ہلاکتوں میں کمی ظاہرہوتی ہے، تاہم کئی دہائیوں کے دوران انسانی اور مالی نقصان حیران کن ہے۔ 2000 سے بھارتی فورسز کی مجموعی اموات 2,700 سے تجاوز کر گئی ہیں، 2026 کی تازہ کارروائیوں میں بھی ڈی آرجی اور کوبرا کے اہلکاربارودی سرنگوں کا نشانہ بنے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کی بڑے پیمانے کارروائیاں ، جھڑپیں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات قبائلی برادریوں کو الگ تھلگ کر رہے ہیں۔ زمینوں، جنگلات اور کان کنی کے مفادات پر ماونوازوں اور ریاست کے درمیان جارحانہ کارروائیوںکے درمیان آدیواسی پھنس گئے ہیں جس سے مقامی افراد کی بھرتی کو ہوا مل رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے سماجی و اقتصادی شکایات کا ازالہ نہیں کیا جارہا، وسائل کے استحصال کے ساتھ ساتھ سرمایہ داروں کے منافع کو لوگوں کے حقوق یا ترقی پر ترجیح دی جاتی ہے۔بھارت کا فوجی طرز عمل کئی دہائیوں سے ناکام رہا ہے۔ 2026 میں شورش کا خاتمہ نہیں ہوا ، یہ نئی دہلی کے تکبر، بے حسی اور نااہلی کو ظاہرکرتا ہے کیونکہ خونریزی کا سلسلہ جاری ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button