بھارتی حکومت کا ہم آہنگی کے لئے مسلسل دباو اس کی مسلح افواج کے لئے تباہ کن ثابت ہورہا ہے

نئی دہلی 26 جولائی (کے ایم ایس) بھارت کی مسلح افواج میں” انٹیگریٹڈ تھیٹر کمانڈز“ کے لیے حکومت کا اندھا دھند دباو ایک تباہ کن مذاق بن گیا ہے جو مودی حکومت کی ڈیڈ لائن کے تحت فوجی تیاریوں میں رکاوٹ بن رہاہے، پیشہ ورانہ اتفاق رائے پامال ہورہا ہے اورمسلح افواج کے اندر گہری ٹوٹ پھوٹ کا پردہ فاش ہورہاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انٹر سروسز آرگنائزیشنز ایکٹ، 2023، جو 2024 اور 2025 کے دوران اپنے ضوابط کے ساتھ نافذ ہوا، ایگزیکٹو کو مشترکہ فوجی ڈھانچے کو بلڈوز کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ تباہ کن، انٹر سروسزمیں کشیدگی اور جنگی تیاریوں میں رکاوٹ کا باعث بن گیا۔بھارتی فضائیہ اوپر سے نیچے کی اصلاحات کا شکار ہو گئی ۔-21 MiG کے بیڑے کی ریٹائرمنٹ کے بعدبھارتی فضائیہ کو 2025 کے آخر تک صرف 29 سکواڈرن کے ساتھ آپریشنل فائٹر اسکواڈرن کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑا جس کے پاس پہلے 31 سے 32 سکواڈرن تھے۔ایک عام فائٹر سکواڈرن 18 سے 20 طیاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ نے اپنے پہلے سے ہی محدود جنگی اثاثوں کو مستقل علاقائی کمانڈوں میں تقسیم کرنے کی بجا طور پر مزاحمت کی ہے۔ بھارت کے کل جنگی طیاروں کا تخمینہ تقریباً 464 سے 522 طیاروں تک لگایا گیا ہے – ایک ایسی طاقت جو چین کے تقریباً 66 لڑاکا اسکواڈرن کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے اور پاکستان کے تقریباً 25 اسکواڈرن کے برابر ہے۔ 42 لڑاکا اسکواڈرن کا منظور شدہ ہدف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اوربھارتی فضائیہ 2035 تک بمشکل 35 سے 36 سکواڈرن تک پہنچ سکتی ہے۔نئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے تحت 2026 میں سیاسی طور پر منظورشدہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے تحت تین مجوزہ تھیٹر کمانڈز کی تشکیل ہونی ہے: ایک ناردرن تھیٹر کمانڈ چین پر مرکوز ہوگی، ایک ویسٹرن تھیٹر کمانڈ جو پاکستان پر مرکوز ہوگی اور میری ٹائم تھیٹر کمانڈ۔ سیاسی طور پر مسلط کردہ بیوروکریٹک ٹائم لائنز کو پورا کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل فوج کے مخصوص اصولوں کو نظرانداز کررہا ہے۔ نتیجتاًآپریشنل ہم آہنگی تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہے اور بنیادی دفاعی تیاری ختم ہو رہی ہے کیونکہ فوجی جدیدیت ایک نہ ختم ہونے والے بیوروکریٹک تعطل میں پھنسی ہوئی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی مداخلت کی وجہ سے کئی دہائیوں کی کم سرمایہ کاری نے بھارت کی مسلح افواج کو دو محاذوں پر تیزی سے کمزور کر دیا ہے۔دریں اثناءبھارتی حکومت اپنے سیاسی نظریات کے لیے اصلاحاتی تھیٹر کی منصوبہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ حقیقی فوجی انضمام نہیں بلکہ خود ساختہ تزویراتی تخریب کاری ہے۔






