اقوام متحدہ کا دہلی میں سی جے پی کے احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پراظہار تشویش

نئی دہلی: اقوام متحدہ نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کے خواہشمند لوگوں کوہراساں کیے جانے کے خوف کے بغیر ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق20 جولائی کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی روزانہ کی پریس بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ عالمی ادارہ نئی دہلی میں ہونے والی پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم ان مظاہروں سے بخوبی واقف ہیں جو ہم نے نئی دہلی میں دیکھے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے احتجاج کرنے کے خواہشمند لوگوں کو ہراساں کیے جانے کے خوف، گرفتاری کے خوف، یا زخمی ہونے کے خوف کے بغیر ایسا کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سیکورٹی فورسز کی ذمہ داری ہے کہ ان حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ یہ بیان 20 جولائی کو ہزاروں طلباءاور نوجوان کارکنوں کے”پارلیمنٹ چلو“ مارچ کے چنددن بعد سامنے آیا جس میں پارلیمنٹ کے قریب پولیس کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس اہلکاروں نے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس، لاٹھیوں اور رکاوٹوں کا استعمال کیا جس سے مظاہرین اور پولیس اہلکار دونوں زخمی ہوئے۔مظاہرین نے طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال کا الزام لگایا، جب کہ دہلی پولیس نے کہا کہ سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے کے بعد مظاہرین نے جارحانہ اور پرتشدد رخ اختیارکیا۔ مظاہرے مسابقتی داخلہ امتحانات میں مبینہ لیکس اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبات پر شروع ہوئے۔ بعد میں یہ نوجوانوں کی قیادت میں ایک وسیع تر تحریک میں تبدیل ہوگئے جس میں تعلیمی نظام میں احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ شامل تھا۔اقوام متحدہ کے بیان سے مظاہروں سے نمٹنے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی توجہ کی عکاسی ہوتی ہے ۔ رواں ہفتے کے شروع میں ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ 20 جولائی کے کریک ڈاو¿ن کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کی طرف سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال کے الزامات کی تحقیقات کریں اور پرامن اجتماع کے حق کی یقینی بنائیں۔








