مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں،رضوان سعید شیخ
واشنگٹن: امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے جانے والے اقدامات، جن میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے پانچ اگست یوم استحصال کشمیر کے موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفارت خانے ،واشنگٹن ڈی سی کے زیر اہتمام جنو بی ایشیا میں بین الاقوامی قانون کو درپیش چیلنجز،مسئلہ جموں و کشمیر اور سندھ طاس معاہدے” کے موضوع پر ایک خصوصی ویبنار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ویبنار میں سفارت کاروں، ماہرین، دانشوروں، کشمیری نمائندوں اور کمیونٹی رہنما ئوں نے شرکت کی جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال، بھارت کے اقدامات، بین الاقوامی قانون اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق مختلف پہلوں پر اظہار خیال کیا گیا۔ویبنار سے سابق مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ سفیر منیر اکرم، کشمیر سیویٹاس کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر فرحان مجاہد، فائونڈیشن فار امریکن سیکیورٹی اینڈ ٹیکنالوجی کے صدرعلی عنار اور صنوبر انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر قمر چیمہ نے بھی خطاب کیا۔سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کیے جانے والے اقدامات، جن میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ سات برس گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں سیاسی جبر، معاشی دبا ئو، بنیادی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں اور آبادیاتی تبدیلیوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم ان اقدامات کے باوجود کشمیری عوام کے عزم اور حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کو کمزور نہیں کیا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور دیگر عالمی فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھایا ہے اور آئندہ بھی کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا کا بنیادی تنازع ہے، جس کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن اور استحکام ممکن نہیں۔سفیر رضوان سعید شیخ نے سندھ طاس معاہدے کو دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن، اعتماد اور آبی تعاون کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور اس سے انحراف یا اس کی یکطرفہ معطلی خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ موثر اور مثبت سفارت کاری کا نتیجہ ہے اور ملک آئندہ بھی امن، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات نہ تو مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کے عزم کو متزلزل کر سکتے ہیں۔ منیر اکرم سمیت دیگر مقررین نے کہاکہ جموں و کشمیر کے تنازع اور سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارت کے اقدامات بین الاقوامی قانون کے تناظر میں سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں منظم انداز میں آبادی کے تناسب میں تبدیلیاں مستقبل میں کسی بھی ممکنہ رائے شماری کے نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش قرار دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر عالمی برادری کو موثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ویبنار کے اختتام پر مقررین نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لے، تنازع کے پرامن حل کے لیے موثر کردار ادا کرے اور خطے میں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔






