سنبھل تشدد کی منصوبہ بندی مسلمانوں نے نہیں ، اتر پردیش حکومت نے کی تھی، رکن پارلیمنٹ

لکھنو:سماج وادی پارتی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمان برق نے کہا کہ اترپردیش کے شہر سنبھل میں 2024میں پیش آنے والا تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا اور یہ منصوبہ بندی مسلمانوں نے نہیں بلکہ پولیس ، انتظامیہ اور اتر پردیش حکومت نے کی تھی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ضیاء الرحمان نے اترپردیش اسمبلی میں پیش کی گی عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کمیشن کے اس نتیجے کو مسترد کردیا کہ وہ اور دیگر افراد تشدد کی سازش میں ملوث تھے۔ انہوںنے کہا کہ اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ہے کہ مقامی مسلمان اسلحہ لیکر آئے تھے اور انہوںنے فائرنگ کی تھی ، حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کیلئے اس رپورٹ کو طویل عرصے تک منظر عام پر نہیںآنے دیا ۔نومبر 2024میں اترپردیش کے شہر سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کے سروے کے موقعے پر تشدد برپا ہو گیا تھا۔ پولیس کی فائرنگ سے نعمان ، بلال اور نعیم سمیت متعدد مسلم نوجوان جاں بھق ہو گئے تھے۔
حالی میں اتر پردیش اسمبلی میں پیش کی گئی عدالتی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیاہے یہ تشدد پہلے سے منصوبہ بند تھا اور اس میں ضیا الرحمان برق، رکن اسمبلی اقبال محمود کے فرزند سہیل اقبال اور شاہی جامع مسجد کی انتظامی کمیٹی کے بعض ارکان کی ملی بھگت شامل تھی۔فرقہ پرست عدالتی کمیشن نے متاثرہ مسلمانوںکو ہی واقعے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔







