مغربی بنگال: جمعیت علماءہند کا احتجاج، انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے لاکھو ںنام بحال کرنے کا مطالبہ
کولکتہ: ریاست مغربی بنگال میں جمعیت علماءہند نے دارلحکومت کولکتہ میں ایک احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی عمل کے دوران فہرستوں سے خارج کیے جانے والے تقریباً 27 لاکھ ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعیت مغربی بنگال کے صدر مولانا صدیق اللہ چودھری کی قیادت میں مارچ راجہ بازار کے علاقے سے شروع ہوا اور مولالی کے مقام پر اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرے میں مذہبی رہنماو¿ں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیم کے ارکان اور حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے افراد کے لیے پاسپورٹ سے متعلق خدمات اور تعلیمی مواقع سمیت مختلف سرکاری اور انتظامی خدمات تک رسائی میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خارج کیے گئے ووٹرز کے مقدمات کو جلد از جلد حل کیا جائے اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے ہر ضلع میں ٹربیونل قائم کیا جائے۔جمعیت کے رہنما مفتی عبدالسلام نے کہا کہ خصوصی نظر ثانی کے عمل کے بعد انتخابی فہرستوں سے 27 لاکھ سے زائد ناموں کو خارج کر دیا گیا ہے۔
مظاہرین نے ان رپورٹوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پولیس مغربی بنگال کے مختلف حصوں میں مساجد کے لاﺅڈ سپیکر ہٹا رہی ہے۔





