مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:سڑکوں کی خستہ خالی ،تنخواہوں کی عدم ادائیگی ، بے روزگاری کے خلاف شدید مظاہرے

پلوامہ، شوپیاں ، بارہمولہ ، جموں میں مظاہروں نے تعمیر وترقی کے بھارتی دعوئوں کی قلعی کھول دی

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے قابض بھارتی انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف سڑکوں نکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں لوگوں کو سڑکوں کی خستہ خالی کے باعث سخت تکالیف اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے پڑے ہوئے ہیں جن کے اندر پانی جمع ہونے سے روزانہ کا سفر مشکل ہو رہا ہے ۔پلوامہ میں مکینوں نے بتایا کہ پائیر-پلوامہ روڈ، سرکلر روڈ، اور پلوامہ-سرینگر روڈ سمیت دیگر کئی سڑکوں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ ارجمند حسین نامی ایک شہری نے کہ بارش کا پانی گڑھوں میں جمع ہو جاتا ہے، جس سے انہیں سخت مشکل درپیش آتی ہے اور حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔رہائشیوں نے کہا کہ تباہ شدہ سڑکوں نے دیہاتوں اور قصبوں کے درمیان سفر کا وقت بھی بڑھا دیا ہے، جس نے محنت مشقت، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے جانے والے لوگوں کو شدید متاثر کیا ہے۔شوپیاں میں، کیریوا شاداب کے ٹھوکر محلہ کے رہائشیوں نے اپنی پہاڑی سڑک کی خراب حالت کے بارے میں شکایت کی۔ ایک خاتون نے کہا کہ سڑک کی خرابی کی وجہ سے حاملہ خواتین اور بوڑھے افراد کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بارش کے دوران سڑک کی حالت اس وقت مزید خرا ب ہو جاتی ہے جب گڑھے پانی سے بھر جاتے ہیں ۔ دونوں اضلاع کے مکینوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ سڑکوں کی مرمت کا کام جلد از جلد شروع کریں تاکہ ان کی مشکلات کا خاتمہ ہوسکے۔
مقبوضہ وادی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن نے ضروری تعمیراتی سامان ریت، بجری وغیرہ کی دستیابی تک ٹینڈرنگ کے عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے ضلع میں کئی ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کا خدشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کا فیصلہ معمولی معدنیات پر رائلٹی کی ادائیگی پر حکام اور کان اور ٹپر مالکان کے درمیان جاری تعطل کے درمیان آیا ہے۔ تنازعہ نے سپلائی چین میں خلل ڈال دیا ہے، ٹھیکیداروں کو کاموں کو انجام دینے کے لیے ضروری تعمیراتی مواد فراہم نہیں کیا جا رہا ہے ۔کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین بشیر احمد شیخ نے کہا کہ ٹھیکیداروں کو ضروری تعمیراتی اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے جب کہ ورکنگ سیزن میں صرف دو ماہ رہ گئے ہیں۔
دریں اثنا جموں خطے میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف ” مشن سٹیٹ ہڈ جموں کشمیر” کے زیر اہتمام مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت تنظیم کے صدر سنیل ڈمپل نے کی۔ انہوں نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ محکمہ تعلیم کے ملازمین بشمول ووکیشنل ٹرینرز، کلسٹر ریسورس کوآرڈینیٹر، سیزنل ٹیچرز اور ایم ٹی ایس کو گزشتہ پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری اور بھرتی کی کمی کی وجہ سے شدید دبا ئو میں ہیں۔مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور بے روزگاری کے خاتمے اور اجرتوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔یادر ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے تاہم علاقے میں ہونے والے ان مظاہروں نے ان دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button