بھارت

امریکہ کمیشن برائے مذہبی آزادی کا ”آر ایس ایس رہنمائوں ” پر پابندی کرنے کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی(یو ایس سی آئی آر ایف) نے ہندوتوا نظریات کا پرچار کرنیوالی بھارت کی انتہاپسند جماعت آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھگوت کے مجوزہ دورہ امریکا کے خلاف آواز بلند کردی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مابق امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر مظالم ڈھانے والے آر ایس ایس رہنمائوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر آصف محمود نے کہا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ ہے جسکے زیر اثر گروہوں نے مذہبی اقلیتوں بشمول مسیحیوں اور مسلمانوں کے خلاف حملے کیے ہیں اور اب آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگوت دورہ امریکا کی تیاری کررہا ہے۔
یو ایس سی آئی آر ایف کے کمشنر جین ملز نے زور دیا کہ آر ایس ایس کے لیڈر اگر بھارتی حکومت سے تعلق بھی رکھتے ہوں تو اس صورت میں بھی انہیں یہ اعزاز نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اعلی سطح کی ملاقاتیں کریں یا ان سے سفارتی شائستگی اپنائی جائے۔
جین ملز نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے مرتکب آر ایس ایس رہنمائوں پر پابندیاں عائد کرے۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت 25 اگست سے امریکا کا کئی روزہ دورہ کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہیں جس میں وہ نیویارک میں خطاب اور ملاقاتیں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
غیرملکی دورے میں وہ کینیڈا اور برطانیہ بھی جانا چاہتے ہیں جہاں انکے خلاف احتجاج کا امکان ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button