بھارت

اسدالدین اویسی نے بی جے پی-آر ایس ایس کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا

asad din owaisiنئی دہلی: بھارت میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ازبکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ملنے پر بی جے پی اور آر ایس ایس کے تاریخی بیانیے میں شدید تضاد کو بے نقاب کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق اسدالدین اویسی نے ایک بیان میں واضح کیا ہےکہ ایک طرف بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ سیاسی حلقے مغل بادشاہ بابر اور مغل دور کو مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، جبکہ دوسری طرف مودی نے اسی ملک سے اعلیٰ اعزاز قبول کیاہے جومغل بادشاہ بابر کی جائے پیدائش ہے۔اویسی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "آپ بابر کے نام پر اتنی توہین آمیز باتیں کرتے تھے، لیکن آج اسی ملک سے اعلی اعزازوصول کر رہے ہیں۔” انہوں نے آر ایس ایس اور سنگھ پریوار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس تضاد پر غور کرنا چاہیے اور بابر کے نام کو بھارتی سیاست میں سیاسی طعنہ بنانے کے اپنے بیانیے کا جائزہ لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض ایک سفارتی اعزاز کانہیں بلکہ بی جے پی-آر ایس ایس کے تاریخی اور سیاسی بیانیے کے تضاد کو بے نقاب کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہنشاہ بابر وہی تاریخی شخصیت ہے جس کے نام کو بی جے پی اور آرایس ایس برسوں سے مغل دور اور ہندوستان کی مسلم تاریخ اور عوام میں مسلم مخالف جذبات بھڑکانے کیلئے استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ازبکستان کا اعزاز قابلِ فخر ہے تو پھر بابرکے نام اور مغل تاریخ کو سیاسی نفرت کا ہتھیار کیوں بنایا جاتا ہے؟اسدالدین اویسی نے بھارت میں حالیہ برسوں میں مغل بادشاہوں کے نام سے منسوب سڑکوں اور مقامات کے نام تبدیل کرنے اور مغل تاریخ پر تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس پس منظر میں مودی کی طرف سے ازبکستان سے اعلی اعزاز لینا ایک واضح سیاسی تضاداور دوغلا معیارہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بابر اور مغل تاریخ پر سیاست کرنے والے بیرونِ ملک اسی تاریخی پس منظر والی سرزمین سے اعزاز قبول کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ بابرکی پیدائش فرغانہ وادی میں ہوئی تھی، جو آج کے ازبکستان میں واقع ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button