’ایس آئی آر‘ کو کشمیر میں بھی بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، عمرعبداللہ
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی(ایس آئی آر) کے عمل کے دوران بڑی تعداد میں رائے دھندگان کے نام خارج کیے جانے سے روکنے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ پورے بھارت میں ”ایس آئی آر“ کے عمل کا مقصد انتخابی عمل میں "ردوبدل” کرنا ہے ۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی اسی طرح کے عمل کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
عمر عبداللہ نے سری نگر میں انڈور جمناسٹکس ہال کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام حلقہ بندیوں کے عمل کے دوران پہلے ہی اس طرح کے تجربے سے گزر چکے ہیں۔عمر عبداللہ نے کہاہم پہلے ہی اس کھیل کا شکار ہو چکے ہیں، ہم حلقہ بندیوں کے عمل کو نہیں بھولے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں حلقہ بندیوں کا مقصد بی جے پی کی مدد کرنا تھا اور” ایس آئی آر“ کے معاملے میں بھی وہی کچھ ہوگا۔ لیکن مجھے امید ہے اور میرا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کی کارروائی انتخابی فہرستوں سے لوگوں کے نام خارج کرنا مشکل بنا دے گی۔






