مقبوضہ جموں و کشمیر

نئے کاروباری قانون کے تحت کشمیر کی زراعت پر مبنی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے: ماہرین

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں زراعت پر مبنی معیشت کو نئے کاروباری قانون کے تحت دانستہ طور پر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
کشمیری عوام کا روزگار اور گزر بسر بنیادی طور پر زراعت پر منحصر ہے، لیکن زرعی زمینوں پر بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دے کر ان کی آمدنی کے ذرائع کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر ایز آف ڈوئنگ بزنس بل 2026 زرعی اراضی پر تجارتی تعمیرات کی اجازت دیتا ہے۔ وزیراعلی عمر عبداللہ نے یہ بل 28ستمبر کو اسمبلی میں پیش کیا تھا جسے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی منظوری ملنے کے بعد پورے علاقے میں نافذ کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔نئے قانون کے تحت زرعی زمین پر صرف سرخ اور نارنجی زمرے کی صنعتوں پر پابندی ہوگی، جبکہ سینٹرل پلوشن کنٹرول بورڈ (CPCB) کی طرف سے غیر ممنوعہ سرگرمیوں کی آزادانہ اجازت ہوگی۔ خدمات اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق شعبوں کو بھی زرعی اور باغبانی کی زمینوں پر کام کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔یہ تبدیلی اس سابقہ پالیسی سے انحراف ہے جس کے تحت زرعی زمین پر تعمیرات ممنوع تھیں۔ 2022 کے ضوابط کے مطابق زمین کا استعمال تبدیل کرنے کے لیے ضلعی کمیٹی کی سفارش پر ڈسٹرکٹ کلکٹر سے اجازت لینا ضروری تھا۔ نئے قانون کے تحت اب تعمیرات کے لیے حکومت کے مقرر کردہ مشیر کی جانب سے تصدیق کافی ہوگی۔
زراعت مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت کی بنیاد ہے اور تقریبا 70 فیصد آبادی کا ذریعہ معاش ہے۔ 2024-25کے اعداد و شمار کے مطابق قابل کاشت زمین کا مجموعی رقبہ 10.97لاکھ ہیکٹر ہے، جبکہ باغبانی کا شعبہ 3.47لاکھ ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سے سات لاکھ سے زائد خاندان، یعنی تقریبا 35 لاکھ افراد وابستہ ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زراعت مجموعی مقامی پیداوار (GDP)میں تقریبا 10 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور اس سے سالانہ تقریبا 10 ہزار کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق ایک ہیکٹر باغ سالانہ تقریبا 400 دن کے برابر روزگار فراہم کرتا ہے۔اطلاعات کے مطابق وزیراعلی کو سرینگر کے سول سیکریٹریٹ میں محکمہ قانون نے اس بل پر بریفنگ دی، تاہم تفصیلی بریفنگ کے دوران انہوں نے اس کی شقوں پر اعتراض نہیں کیا۔ ایک سینئر عہدیدار کے مطابق حکام کو توقع تھی کہ اپوزیشن اسمبلی میں متنازع شقوں پر حکومت کو گھیرلے گی۔قانون کی ایک شق بھاری صنعتوں کے سوا رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دیتی ہے۔ کولڈ اسٹوریج، مال برداری کے مراکز، نائٹ کلب اور شراب کی دکانیں اس اجازت سے مستثنیٰ ہیں۔ نئے قانون کے تحت 24میٹر یعنی تقریبا آٹھ منزلہ عمارتیں تعمیر کی جا سکیں گی۔ تجارتی مالز بھی حکومتی منظوری کے بغیر تعمیر کیے جا سکیں گے۔
وادی کشمیر کے بیشتر حصے اور ڈوڈہ، رام بن اور کشتواڑ کے علاقے زلزلے کے خطرے کے زون پانچ میں آتے ہیں جہاں زلزلے کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے اور تقریبا 50 فیصد آبادی رہائش پذیر ہے۔2025 میں بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز (BIS)نے خطے کے 60 فیصد رقبے کو درمیانے سے بلند درجے کے خطرے والے علاقے میں شمار کیا تھا۔ اگرچہ بعد میں یہ درجہ بندی واپس لے لی گئی، تاہم اس نقشہ بندی نے کشمیر میں عمارتوں کو لاحق خطرات کی سنگینی کو نمایاں کیا۔2005 میں 7.6شدت کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں آزاد جموں و کشمیر میں 75ہزار اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں تقریبا 1,400افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ خطے میں تقریبا ایک لاکھ 12ہزار مکانات تباہ یا متاثر ہوئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوگئے۔2026 کی ایک حالیہ تحقیق میں سرینگر شہر کے 87 وارڈز کے زمینی اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے مطابق دریائے جہلم کے کنارے بعض علاقوں میں زمین کے زلزلے کے دور ن مائع جیسا رویہ اختیار کرنے کا خطرہ زیادہ سے شدید درجے تک ہے۔ ڈھیلی مٹی اور زیر زمین پانی کی بلند سطح اس خطرے کو مزید بڑھاتی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نئے قانون کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں، جن میں غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر تباہی شامل ہیں۔ سابق چیف ٹاون پلانر افتخار احمد حکیم نے کہا کہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پہلے زمین کے مائع بننے کے خطرے کے باعث سرکاری رہائشی منصوبوں میں بلند عمارتوں کی اجازت نہیں دی تھی۔زمین کے مائع بننے کا عمل اس وقت پیش آتا ہے جب پانی سے بھرپور مٹی شدید زلزلے کے دوران اپنی مضبوطی کھو دیتی ہے، جس سے عمارتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا آپ عمارتوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھے بغیر آٹھ منزلہ عمارتوں کی اجازت دے رہے ہیں اور پانی سے بھری اور زلزلے کے خطرے سے دوچار زمین پر عمارتیں پانی میں تیرنے لگیں گی۔ ان کے مطابق ایسی تعمیرات شہر کے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیں گی۔
بھارتی ریاستوںکرناٹک، تلنگانہ اور گجرات کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان ریاستوں نے تعمیرات کے ضوابط میں مشکلات کم کیں، لیکن ایسا ماسٹر پلان کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا نہ کہ اس کو نظرانداز کرکے۔ ان کے مطابق نئے قانون کو عوامی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا اور ماسٹر پلان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ماسٹر پلان ایک طویل مدتی منصوبہ بندی کی دستاویز ہے جو تکنیکی تجزیے اور عوامی مشاورت کے ذریعے تیار کی جاتی ہے۔ اس میں آبادی کے تخمینوں کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور زمین کے استعمال کے ضوابط طے کیے جاتے ہیں۔افتخارحکیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی مناسب منصوبہ بندی کے بغیر زمین کے استعمال میں من مانے ردوبدل سے شہری بحران پیدا ہوگا۔
سابق بیوروکریٹ خورشید گنائی کی قیادت میں گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ گروپ کو کاروبار میں آسانی پیدا کرنے پر اعتراض نہیں، تاہم وہ قانون کے شیڈول دو، تین اور پانچ کے منافی ہے۔گنائی کے مطابق رہائشی علاقوں میں سفید اور سبز زمروں کی صنعتوں کی اجازت ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہے اور اس سے جموں وکشمیر کے رہائشی علاقوں میں شدید مسائل پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمارتوں کے ضوابط میں وسیع نرمی کرکے قانون نے ہر قسم کی تعمیرات کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔ ان کے بقول یہ کنکریٹ کا جنگل بسانے کا لائسنس ہے، جو عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کرے گا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قانون پر نظرثانی کرکے اس میں ضروری ترامیم کرے۔
انوائرنمنٹل پالیسی گروپ (EPG)کے کنوینر فیاض بخشی نے قانون کی دفعہ 22 کے تحت دیے گئے وسیع اختیارات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر زلزلوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور آبی علاقوں کے سکڑنے جیسے خطرات سے دوچار ہے۔ان کے مطابق سرینگر کے ماسٹر پلان میں سیلابی پانی جذب کرنے والے علاقوں، آبی خطوں اور زلزلے کے خطرات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ خطرات کا جائزہ لیے بغیر تعمیرات کی اجازت دینے سے قدرتی آفات کے نقصانات بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہر جگہ تعمیرات کی اجازت دے دی جائے۔زرعی زمینوں پر بلند تجارتی عمارتوں کی اجازت کشمیری معیشت اور ماحولیات کو نقصان پہنچانے کے خدشات بڑھا رہی ہے۔
ناقدین کے مطابق اس سے غیر مقامی کاروباری مفادات کے ذریعے زمین پر قبضے اور آبادیاتی تبدیلی کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔ باغات کی تباہی سے زراعت پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
زراعت اور باغبانی مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ 5 اگست 2019کے بعد بھارتی حکومت نے زمین کی ملکیت سے متعلق متعدد قوانین متعارف کرائے ہیں، جنہیں ناقدین خطے میں نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق زرعی زمینوں پر بلندتجارتی عمارتوں کی اجازت نہ صرف لاکھوں کشمیریوں کے روزگار بلکہ خطے کے ماحول، غذائی تحفظ اور آبادیاتی توازن کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button