چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ، بھارت میں طلبہ کی ملک گیر احتجاج کی کال
نئی دہلی:بھارت میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر طلبہ اور نوجوانوں کے ملک گیر احتجاج کے بعد انتخابی اداروں کی غیر جانب داری اور شفافیت سے متعلق بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔
نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے استعفی نہ دینے کی صورت میں 2اکتوبر کو ملک گیر احتجاج کی کال دی ہے۔
بھارتی جریدے ”ہندوستان ٹائمز”کی رپورٹ کے مطابق لداخ سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر طلبہ کی احتجاجی کال کی حمایت کی ہے۔ سونم وانگچک نے کہا ہے کہ شفاف انتخابی عمل ملک کے جمہوری نظام میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہنا ضروری ہے۔
بھارت میں احتجاج کا تازہ سلسلہ ایک ایسے وقت پر جاری ہے جب بھارتی اپوزیشن جماعتوں اور مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور انتخابی عمل کے حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی اور استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ادھر قانونی اور آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابی اداروں کی ساکھ جمہوری نظام میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور اداروں کی غیر جانب داری پر عوامی اعتماد کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج اور استعفے کے مطالبے نے ایک مرتبہ پھر انتخابی اصلاحات، ادارہ جاتی شفافیت اور انتخابی عمل پر سیاسی جماعتوں اور عوام کے اعتماد سے متعلق سوالات کو بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔







