بھارتی عدالتی نظام پر اندر سے سوالات اٹھنے لگے
عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی :سابق سپریم کورٹ جج
نئی دہلی:بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا ہے کہ طلباء رہنمائوں عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس دھولیا نے نئی دہلی میں تیسرے سر سید لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آئین کے تحت انصاف کے تصور پر گفتگو کی اور دونوں رہنمائوں کی طویل نظربندی پر تشویش ظاہر کی۔جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہاکہ میری ذاتی رائے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔عمر خالد اور شرجیل امام 2020کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے کے سلسلے میں نظربند ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون(یو اے پی اے)کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دونوں رہنمائوں نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔جسٹس دھولیا کا یہ بیان مقدمے کی سماعت سے پہلے طویل نظربندی، تیز رفتار ٹرائل کے حق اور قومی سلامتی کے قوانین و شخصی آزادی کے درمیان توازن پر جاری وسیع تر بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ ضمانت ملنے سے کسی ملزم کا قصوروار یا بے قصور ہونا طے نہیں ہوتا۔ اس کا تعین قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔جسٹس دھولیا کے بیان کو یو اے پی اے کے تحت مقدمات میں ضمانت دینے میں تاخیر پر عدالتی نظام کے اندر سے اٹھنے والے سوالات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔








