بھارت : مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا رہنما کے نفرت انگیز بیان پر شدید ردعمل
نئی دہلی: مسلمانوں کے خلاف ہندوتوا رہنما گورو سنگھ راجپوت کے نفرت انگیز بیان کی شدید مذمت کی جارہی ہے جس میں انہوں نے نسل کشی سمیت ہر طریقے سے بھارت کو ”ملا فری” بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تقریر اتر پردیش میںضلع میرٹھ کے علاقے ہستناپور میں ایک عوامی اجتماع کے دوران کی گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیومیں گورو سنگھ راجپوت مسلمانوں کی نسل کشی اور ہر ممکن طریقے سے بھارت کو ملا فری بنانے کی اپیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس بیان کی وسیع پیمانے پر مذمت سامنے آئی ہے۔ملا ایک توہین آمیز اصطلاح ہے جو اکثر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں استعمال کی جاتی ہے۔ ویڈیو میں راجپوت مجمعے سے خطاب کرتے ہوئے تشدد اور مسلمانوں کو آبادی سے خارج کرنے کے واضح مطالبات کرتا دکھائی دیتا ہے ۔
یہ بیان بادی النظر میں بھارتیہ نیائے سنہتاکی دفعات 196، 197، 299 اور 353 کے تحت قابلِ تعزیر جرائم کے زمرے میں آ تا ہے۔ ان دفعات کا تعلق گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور تشدد پر اکسانے جیسے معاملات سے ہے۔سول سوسائٹی کی تنظیموں نے بتایا کہ انہوں نے یہ ویڈیواتر پردیش پولیس اور قومی کمیشن برائے اقلیتی برادری کو بھیجی ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے اور نفرت انگیز تقاریر سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
راجپوت اس سے پہلے بھی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ وہ اکثر سوشل میڈیا پر گورو راجپوت چمبل کے نام سے سرگرم رہتاہے۔ وہ اپنے مواد کو سناتن قوم پرستی کے عنوان سے پیش کرتاہے۔ان کی آن لائن سرگرمیوں میں نفرت انگیز تقاریر کے متعدد واقعات شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی میڈیا کی نگرانی کرنے والے اور حقائق کی جانچ کرنے والے اداروں نے ان کی ویڈیوز پر تنقید کی تھی۔ ان ویڈیوز میں قرآن پاک اور حضرت محمد ۖ کے خلاف انتہائی توہین آمیز اور نازیبا تبصرے کیے گئے تھے۔
ناقدین کے مطابق متعدد شکایات کے باوجود اب تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔حقوقِ انسانی کے کارکنوں نے کہا کہ ہستناپور میں کی گئی تازہ تقریر نفرت انگیز بیانات کے اس رجحان کا حصہ ہے جس کی نشاندہی نفرت انگیز تقاریر پر نظر رکھنے والے ادارے کرتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملا جیسی توہین آمیز اصطلاحات اور معاشی و سماجی بائیکاٹ کے مطالبات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اتوار کی شام تک میرٹھ پولیس نے راجپوت کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا تھا۔









