پاکستان

پاکستان میں انتظامی اصلاحات کے لیے قومی سطح پر مباحثہ، نئے صوبوں کے قیام پر زور

اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، مضبوط بلدیاتی نظام اور آئینی اتفاقِ رائے ناگزیر قرار

اسلام آباد:پاکستان میں طرزِ حکمرانی بہتر بنانے کے لیے سیاسی رہنمائوں اور پالیسی ماہرین نے اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے چھوٹی انتظامی اکائیاں بنانے اور بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے پر زور دیا۔
”پاکستان کی انتظامی تشکیلِ نو پر قومی مباحثہ: نئے صوبوں کا قیام ”کے عنوان سے منعقدہ ایک تقریب میں سیاسی نمائندوں، حکومتی عہدیداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔یہ تقریب پیر کے روز اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہوئی۔شرکا ء نے عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے اور انتظامی کارکردگی بڑھانے کے مختلف امکانات کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے کہا کہ چھوٹی انتظامی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حدود سے قطع نظرموثر بلدیاتی حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔
وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے وسیع رقبے اور مسلسل انتظامی مشکلات کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سے پورے صوبے کا موثر انتظام چلانا مشکل ہے۔ دور دراز علاقوں میں فاصلے زیادہ ہیں اور صحت سمیت بنیادی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔انہوں نے نسلی یا لسانی بنیادوں کے بجائے انتظامی ضروریات کے تحت نئے صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانے کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹی اکائیاں حکومت کو عوام کے قریب لانے اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
دیگر شرکا نے آئین کی پاسداری، سیاسی اتفاقِ رائے اور مالیاتی امور کے محتاط جائزے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ انتظامی تبدیلیاں معاشی طور پر پائیدار ہونی چاہئیں۔متعدد مقررین نے مضبوط بلدیاتی نظام اور مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی بھی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی اور جواب دہ ادارے میسر ہونے چاہئیں۔
مباحثے میں اختیارات کے ارتکاز اور عوامی اعتماد میں کمی پر تشویش ظاہر کی گئی۔ شرکا ء نے سیاسی فریقوں پر زور دیا کہ وہ اتفاقِ رائے سے اصلاحاتی لائحہ عمل تیار کریں۔مباحثے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ انتظامی تشکیلِ نو کا جائزہ آئینی، مالیاتی اور طرزِ حکمرانی کی اصلاحات کے ساتھ لیا جائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button