بھارت

لارنس بشنوئی گینگ کی سلمان خان اور ان کے اہلِ خانہ کو قتل کی دھمکی

ٹائیگر شروف پر حملے کی ذمہ داری بھی گینگ نے قبول کر لی

ممبئی:بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملے کے فورا بعد لارنس بشنوئی گینگ نے سلمان خان اور ان کے اہلِ خانہ کو قتل کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھمکی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ایک آڈیو کلپ میں دی گئی۔
آڈیو کلپ میں انیل پنڈت نامی شخص نے خود کو لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی قرار دیا۔ اس نے کہاکہ تمام بھائیوں کو رام رام۔ میں انیل پنڈت، لارنس بشنوئی کا چھوٹا بھائی ہوں۔ میں انیل پنڈت اور میرا بڑا بھائی ارمان سندھو آج ممبئی میں ٹائیگر شروف کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ہم نے اسے خبردار کیا تھا لیکن وہ نہیں سمجھا۔آڈیو میں بالی وڈ کو بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا، پوری فلم انڈسٹری میں جو بھی ہمارے خلاف کام کرے گا یا سلمان خان کے ساتھ تعاون کرے گا، اسے قتل کر دیا جائے گا۔
یہ پہلی اور آخری وارننگ ہے۔کلپ میں سلمان خان کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا، سلمان خان، تم داد کا کتا بن گئے ہو اور ہم نے گھر میں داد نام کا ایک کتا رکھا ہوا ہے۔ سلمان خان، غور سے سنو! اگر تم نے میرے بڑے بھائی لارنس بشنوئی یا بشنوئی برادری سے معافی نہ مانگی تو ہم تمہارے گھر کے ایک کتے کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ ہم تمہارے پورے خاندان کو تباہ کر دیں گے۔ یہ بات یاد رکھنا۔دھمکی میں مزید کہا گیا، تم سمجھتے ہو کہ تمہارے پاس سکیورٹی ہے، اس لیے تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ ہم تمہاری سکیورٹی کے باوجود تمہارے ساتھ کچھ ایسا کر دکھائیں گے جسے پوری دنیا یاد رکھے گی۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگ شہرت حاصل کرنے کے لیے ہمارے بھائی کے خلاف بھونک رہے ہیں۔
یہ دھمکی ممبئی کے علاقے جوہو میں ٹائیگر شروف پر حملے کے فورا بعد سامنے آئی۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے ٹائیگر شروف پر پانچ گولیاں چلائیں۔رپورٹس کے مطابق اداکار محفوظ ہیں، تاہم ان کا ڈرائیور گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ پولیس واقعے کی تحقیقات اور ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔
لارنس بشنوئی ایک گینگسٹر ہے، جو 2015 سے گجرات کی سابرمتی سینٹرل جیل میں بند ہے۔ وہ 1993 میں پنجاب کے ایک زمیندار خاندان میں پیدا ہوا۔ اس نے چندی گڑھ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور طلبہ سیاست کے ذریعے جرائم کی دنیا میں داخل ہوا۔بھارتی تحقیقاتی اداروں کے مطابق اس کا گروہ پورے بھارت میں منظم جرائم کا نیٹ ورک رکھتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ نیٹ ورک جیل کے اندر سے اسمگل شدہ موبائل فونز اور انٹرنیٹ پروٹوکول کے ذریعے صوتی رابطوں سے چلایا جاتا ہے۔ بیرون ملک موجود کارندے زمینی سطح پر حملہ آوروں سے رابطہ رکھتے ہیں۔
حالیہ مقدمات میں بیرون ملک موجود اہم کارندوں میں لارنس کا چھوٹا بھائی انمول بشنوئی، کینیڈا میں گولڈی برار، روہت گودارا اور امریکہ میں مقیم انیل پنڈت اور ہرمن سندھو کے نام سامنے آئے ہیں۔سلمان خان کے خلاف گینگ کی دھمکیوں کا پس منظر 1998میں کالے ہرن کے شکار کا مقدمہ ہے۔ بشنوئی برادری کالے ہرن کو مقدس سمجھتی ہے۔ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے 2023 میں کہا تھا کہ سلمان خان ان دس افراد کی فہرست میں سرفہرست ہیں، جنہیں گینگ نشانہ بنانا چاہتا ہے۔
حکمران بی جے پی سے مبینہ روابط پر اپوزیشن جماعتوں نے سوال اٹھایا ہے کہ لارنس بشنوئی مبینہ طور پر بی جے پی کے زیرِ اقتدار گجرات کی جیل میں بیٹھ کر جرائم کی ہدایات کیسے دے رہا ہے۔کانگریس کی ترجمان شما محمد نے سوال کیاکہ لارنس بشنوئی گجرات کی جیل میں بیٹھ کر احکامات کیسے دیتا ہے؟ گجرات میں کون لارنس کی مدد کر رہا ہے؟ گجرات کی بی جے پی حکومت کو بہت سی وضاحتیں دینا ہوں گی۔
عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسوڈیا نے بھی الزام لگایا کہ دہلی حکومت نے گجرات کی جیلوں کو ایک محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے۔بعض میڈیارپورٹس میں بشنوئی کو ہندو قوم پرستی کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ ان رپورٹس میں اسے ہندو ڈان کہا گیا اور اس کی سبزی خوری اور غیرشادی شدہ زندگی کو نمایاں کیا گیا۔
کینیڈا کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بشنوئی گروہ کو کینیڈا میں مختلف افراد کے خلاف پرتشدد جرائم سے جوڑا ہے۔اکتوبر 2024 میں کینیڈا کے اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بیان دیا تھا کہ بھارتی سفارت کار مودی حکومت کے مخالفین کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معلومات بشنوئی گینگ جیسے جرائم پیشہ گروہوں کے ذریعے استعمال ہوئیں جس کے نتیجے میں کینیڈا میں تشدد کے واقعات پیش آئے۔
جولائی 2026 میں امریکہ میں دائر فردِ جرم میں لارنس بشنوئی اور اس کے ایک نائب پر سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے 2023 میں کینیڈا میں قتل کی ہدایات دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ فردِ جرم میں کہا گیا کہ تشدد کے واقعات میں اکثر بھارت اور بیرون ملک مقیم بھارتی نژاد برادریوں کی ثقافتی، سیاسی اور کاروباری شخصیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔کینیڈا میں سلمان خان سے وابستہ بھارتی نژاد کاروباری شخصیات اور فنکاروں کے کاروبار اور املاک بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ ان میں سرے میں کپل شرما کا کیفے شامل ہے جس پر جولائی 2025 سے تین مرتبہ فائرنگ کی گئی۔ وینکوور میں اے پی ڈھلون اور گپی گریوال کی رہائش گاہوں پر بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بشنوئی گینگ کے ارکان نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button