مقبوضہ جموں وکشمیر: مودی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے خلاف کل ہڑتال کی جائے گی

برطانوی ارکان پارلیمنٹ کا مقبوضہ علاقے کی ابتر صورتحال پر اظہار تشویش
سرینگر 24ستمبر ( کے ایم ایس)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل نریندر مودی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے خلاف مکمل ہڑتال کی جائے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دی ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے پر ناجائز بھارتی قبضے اور علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے نریندر مودی حکومت کی طرف سے 5اگست 2019اور اسکے بعد کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات کی طرف عالمی برادری کی توجہ دلانا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے لوگ مکمل ہڑتال کے ذریعے عالمی برادری کو یہ واضح پیغام بھیجیں گے کہ وہ اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو مسترد کرتے ہیں اور حق خود ارادیت ملنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
کشمیر میڈیاسروس ک طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے کشمیریوں کے روزانہ قتل عام نے مقبوضہ علاقے میں حالات معمول پر آنے کے بھارتی دعوﺅں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ روز اوڑی اور شوپیاں میں چار کشمیری نوجوان شہید کر دیے۔
حریت رہنماﺅں اور تنظیموں جاوید احمد میر ، جموںوکشمیر ایمپلائیز موومنٹ اور جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ نے اپنے بیانات میں اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی سے خطاب کے دوران ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے کشمیر کے بارے میں بیان کا خیر مقدم کیا ۔ صدر اردوان نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا تھا۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے دفتر میں آج ایک تعزیتی ریفرنس کے مقررین نے معروف صحافی ، دانشور اور ”کشمیر میڈیا سروس“ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شیخ تجمل الاسلام کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ۔ مقررین میں وفاقی وزیر سید فخر امام، سردار مسعود خان، نذیر احمد قریشی ، راجہ نجابت حسین ، سید ثاقب اکبر، محمد فاروق رحمانی ، غلام محمد صفی اور سید فیض نقشبندی شامل تھے۔
برطانوی ارکان پارلیمنٹStephen Kinnock، Debbie Abraham، ناز شاہ اور افضل خان نے دارلعوام میں ” کشمیر میں انسانی حقوق“ کے حوالے سے ایک تحریک پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوںنے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردار ادا کرے۔
تحریک کشمیر سوئٹزرلینڈنے بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ہیڈکوارٹرز کے باہر ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا ۔ مظاہرین نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کی تصاویر موجود تھیں ۔ بینرز اور پوسٹرز میںبزرگ رہنما کی جبری تدفین کی مذمت کے نعرے بھی درج تھے۔
بھارتی ریاست تری پورہ میں بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس(بی ایس ایف)کے اہلکاروں کی ایک دوسرے پر فائرنگ سے دو اہلکار ہلاک جبکہ ایک سینئر افسر زخمی ہو گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: