مقبوضہ جموں وکشمیر: مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اپنی آبائی جائیدار سے بے دخل کرنا شروع کر دیا

 

سرینگر 26 ستمبر (کے ایم ایس)
بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اپنی آبائی جائیداد سے یہ دعویٰ کرتے ہوئے بے دخل کرنا شروع کر دیا ہے کہ یہ جائیدادیں دراصل کبھی کشمیری پنڈتوں کے زیر استعمال رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوبی ضلع اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر Dr Piyush Singla نے اعتراف کیا ہے کہ اب تک ضلع میں 22 کشمیری مسلمانوں کو ان کی جائیدادوں سے بے دخل کیا گیا ہے جبکہ مزید10 جائیدادوں کی نشاندہی کی جاچکی ہے ۔ڈی سی نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے پنڈتوں کی طرف سے آن لائن یا آف لائن دائر کی گئی شکایات پر بھی مختلف اقدامات کیے ہیں اور ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کے افسران کو اس ضمن میں بھر پور طریقے ساتھ کام کرنے کی واضح ہدایات دی گئی ہیں تاکہ پنڈتوں کی زمین اور جائیداد سے متعلق شکایات کو دور کیا جا سکے۔
سرینگر میں مقیم سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مودی حکومت کشمیری پنڈتوں کو وادی میں انکی جائیدادیں واپس دلانے کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں کی جائیدادیں چھین رہی ہے جو مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے اسکے مذموم منصوبے کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ علاقے کے محکمہ مال کے افسران پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایسا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا ہے کہ مسلمانوں نے پنڈتوں کی زمین پر قبضہ کیا ہو۔ کشمیری پنڈت بھارتی حکام کی طرف سے شروع کی گئی آن لائن شکایات پورٹل کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس جائیدار پر دعویٰ کررہے ہیں جو کہ ان کے بڑوں نے اپنی مرضی سے وادی کشمیر میں کشمیری مسلمانوں فروخت کی ہے۔ ارضی کے جعلی دعوے کرانے والوں میں زیادہ تر پنڈتوں کی نوجوان نسل شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: