انسانی حقوق کی 12بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے خرم پرویز کی فوری اور غیر مشروط رہائی کامطالبہ

 

لندن 22نومبر (کے ایم ایس)ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی 12بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر غیر قانونی طورپر نظر بند انسانی حقو ق کے کشمیری علمبردار خرم پرویز کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر زوردیا ہے ۔
خرم پرویز کی نظربندی کوایک سال مکمل ہونے کے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے انسانی حقوق کی12بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے دستخط شدہ ایک بیان میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی سرگرمیوں کوغیر قانونی قرار دینا بند کرے۔ کشمیری انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کو22نومبر 2021کو سیاسی بنیادوں پر دہشت گردی اور دیگر سنگین الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔بیان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی حکام پرخرم پرویز کی فوری طور پر اور غیر مشروط طور پر رہائی اور اس کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے کہ ۔ان کاکہناتھا کہ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو تحفظ ملنا چاہیے نہ کے ان کے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات چلائے جائیں۔بیان کے مطابق بھارتی حکام کو انسانی حقوق کے محافظوں کی سرگرمیوں کو غیر قانونی قراردینے اورناقدین کی آوازوں کو خاموش کرانے اور انہیںڈرانے دھمکانے کاسلسلہ بند کرنا چاہیے ۔ بیان میں بھارتی حکام پرزوردیاگیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھارتی فورسز کو حاصل استثنیٰ کے خاتمے کو ترجیح دیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے خاص طور پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میںانسانی حقوق کی خلاف ورزیوںکو جرات مندی کے ساتھ دستاویزی طورپر بے نقاب کیا ہے ۔بیان میں بھارت پر مزید زوردیا گیاہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ انسانی حقوق کے علمبردار بلا خوف و خطر اپنی پیشہ وارانہ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔جموں وکشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈسپیئرنس کے سربراہ خرم پرویز جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کے معروف کارکن ہیں اورہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوںکو بین الاقوامی سطح پر بے نقاب کر رہے ہیں ۔ بیان میں خرم پرویز کی گرفتاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 22نومبر 2021کو بھارت کے بدنام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے خرم کے گھر اور دفتر پر چھاپے مارے اور ان کا لیپ ٹاپ، موبائل فون اور قبضے میں لے لیاتھا۔اس کے بعد انہیں پوچھ گچھ کیلئے طلب کیاگیا اور 6نومبر 2021کو این آئی اے کی طرف سے درج کرائی گئی رپورٹ کی بنیاد پر انہیںگرفتار کیا گیا۔ ان پر تعزیرات ہند اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیاگیا۔خاص طور پر ان پر”مجرمانہ سازش ،بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے ، دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے فنڈزاکھٹے کرنے ، دہشت گردی کیلئے لوگوںکو بھرتی کرنے ،دہشت گرد تنظیم کارکن ہونے اوردہشت گردی کی مالی معاونت ”جیسے الزمات عائد کئے گئے تھے ۔ تنظیموں کے لیے فنڈز جمع کرنے کا جرم’۔گزشتہ سال مئی میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے یو اے پی اے کے کالے قانون کی مختلف دفعات کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھاجو بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور معیارات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔بھارتی حکام نے بارہا خرم پرویز کو ان کی انسانی حقوق کے سرگرمیوں پر انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا چکی ہے ۔ان کے گھر اور دفاتر پر چھاپے مارے گئے، 2016میں بھارتی حکام نے انہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے سے روک دیا، اور پھر کالے قانون سیفٹی ایکٹ کے تحت انہیں 76 دن کے لیے جیل قید کردیاگیا۔مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ خرم پرویزکی نظربندی کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے ۔ ان کی جبری نظر بندی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے علمبرداروں، صحافیوں اورسول سوسائٹی کی تنظیموں کے کارکنوں کے خلاف بھارتی حکام کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک طویل فہرست کا حصہ ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں ملوث فورسز کے اہلکاروں کو جواب دہ بنانے کی بجائے بھارتی حکام نے ان پامالیوںکو بے نقاب کرنے والے کارکنوں کو انتقامی کارروائی کانشانہ بنایا ہے ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی حکام نے اگست2019میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے پرامن احتجاج کو روکنے اور معلومات تک رسائی کو محدود کرنے کے لیے میڈیا کی آزادی پر قدغن عائد کر رکھی ہے اور انٹرنیٹ سروسز بھی معطل ہیں ۔بیان پر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشین فیڈریشن اگینسٹ انوولنٹری ڈسپیئرنس CIVICUS ورلڈ الائنس فار سٹیزن پارٹی سی پیشن،فورم ایشیا۔ فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ، ہیومن رائٹس واچ، انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس ، انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس،انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس، منائرٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل، اسٹیچنگ دی لندن اسٹوری اور ورلڈ آرگنائزیشن اگینسٹ ٹارچر کے دستخط موجو ہیں۔KMS-05/Y

Leave a Reply

%d bloggers like this: