مقبوضہ جموں و کشمیر

دفعہ 370کی منسوخی کے وقت مودی حکومت کی طرف سے کئے گئے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے: عمرعبداللہ

سرینگر10جنوری(کے ایم ایس) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ اگست 2019میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے وقت مودی حکومت کی طرف سے کئے گئے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے جن میں کہاگیا تھا کہ دفعہ 370کی منسوخی سے بغاوت ختم ہو جائے گی۔
عمرعبداللہ نے ضلع اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ولیج ڈیفنس گارڈز کو ہتھیارفراہم کرنے سے یہ دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست 2019کو کہا گیا تھاکہ کشمیر میں بندوق دفعہ370کی وجہ سے ہے اور دفعہ370 کے خاتمے سے بندوق کا کلچر ختم ہو جائے گا۔انہوں نے کہا یہ واضح ہے کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کے حملے ہم نے راجوری میں دیکھے ،کشمیر کے حالات دیکھے اور فورسز اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حالات قابو میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکام اب یہ اقدامات کرنے پر مجبور ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات عوام کا حق ہے لیکن کشمیری جموں و کشمیر میں انتخابات کرانے کے لیے نئی دہلی سے بھیک نہیں مانگیں گے۔انہوں نے کہاکہ اگر اس سال انتخابات نہیں ہوئے تو نہ ہوں! ہم بھکاری نہیں ہیں۔ الیکشن ہمارا حق ہے لیکن ہم اس حق کے لیے ان سے بھیک نہیں مانگیں گے۔عمر عبداللہ نے کہا وہ ہمارے لیے انتخابات کرانا چاہتے ہیں توٹھیک ہے۔ لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں۔جائیدادوں اور زمینوں سے لوگوں کی بے دخلی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں انتخابات نہ کرانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی حکمران کشمیری عوام کو ہراساں کرنا چاہتے ہیں۔ لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے وہ ان کو مزید بڑھانے کی سوچ رکھتے ہیں۔سابق وزیر اعلی نے کہا کہ بی جے پی حکومت جانتی ہے کہ ایک منتخب حکومت عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی کوشش کرے گی جبکہ وہ صرف ان میں نمک اور مرچ چھڑکتے ہیں۔ولیج ڈیفنس گارڈز کو مسلح کرنے کے مودی حکومت کے فیصلے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ 2019میںدفعہ 370کی منسوخی کے وقت نئی دہلی کی طرف سے کئے گئے دعوے جھوٹے ثابت ہوگئے ہیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d