بھارت

اپوزیشن جماعتوں نے تحقیقاتی اداروں کے غلط استعمال پرمودی حکومت کیخلاف سپریم کورٹ میں عرضداشت دائر کردی

mcmsنئی دلی 24 مارچ(کے ایم ایس)
بھارت میں حزب اختلاف کی 14جماعتوں نے بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی جانب سے مرکزی تحقیقاتی اداروں کے غلط استعمال کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ اس مقدمے کی سماعت 5 اپریل کو کرے گی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ان سیاسی جماعتوں نے اپوزیشن لیڈروں کے خلاف سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسے تحقیقاتی اداروں کے اندھا دھند استعمال کے خلاف آج سپریم کورٹ سے رجوع کیاہے۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ سی بی آئی اور ای ڈی جیسے تحقیقاتی اداروں کے ذریعے بی جے پی کے مخالفین کو نشانہ بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اپوزیشن لیڈروں کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد ان کے خلاف مقدمات کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی قیادت میںسپریم کورٹ کے بنچ نے اپوزیشن جماعتوں کے وکیل سینئرایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی طرف سے دائر کی گئی عرضداشت کا نوٹس لیتے ہوئے اس پر 5اپریل سے سماعت کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ بنچ کے دیگر ججوں میں جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پاردی والا شامل تھے ۔ دکیل نے کہاکہ95فیصد مقدمات اپوزیشن لیڈروں کے خلاف ہیں اور ہم چاہتے ہیں عدالت عظمی گرفتاری سے قبل اور بعد از گرفتاری کیلئے اصولوں سے متعلق رہنمائی کرے ۔ جن اپوزیشن پارٹیوں نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے ان میں کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، جنتا دل یونائیٹڈ، بھارت راشٹرا سمیتی، راشٹریہ جنتا دل، سماج وادی پارٹی، شیو سینا (دھو ٹھاکرے )، نیشنل کانفرنس، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، بائیں بازو اور دراوڑ منیترا کزاگم (ڈی ایم کے)شامل ہیں۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d