حریت رہنمائوں کی طرف سے انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت

سرینگر23 نومبر (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم اوردیگرحریت رہنمائوں اورتنظیموںنے انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری اور وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر جاری گرفتاریوں کی لہر پر مودی حکومت کی شدیدمذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم سرینگر سے جاری ایک بیان میں خرم پرویز کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کے عالمی اداروں پر زوردیا کہ وہ بھارتی فورسز کی اس کارروائی کی مذمت کریں اور خرم کی فوری رہائی اور وادی کشمیرمیں بڑے پیمانے پر جاری گرفتاریوں کا سلسلہ بند کرنے کیلئے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔ حریت فورم نے حریت رہنمائوں شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، محمد یاسین ملک، شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان اور ایاز محمد اکبر سمیت ہزاروں بے گناہ کشمیری جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر بھارت اور کشمیر کی جیلوں میں طویل عرصے سے نظربند ہیں ۔ بیان میں میر واعظ سمیت تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیاگیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور مسلم لیگ کے قائم مقام چیئرمین عبدالاحد پرہ، مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار، جموں و کشمیر پولیٹیکل ریزسٹنس موومنٹ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مصیب احمد اور جموں و کشمیر پیپلز لیگ کے ترجمان نے سرینگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق کے معروف کارکن خرم پرویز کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے ان کی گرفتاری کو بدترین آمریت اورریاستی دہشت گردی قرار دیا۔حریت رہنمائوں نے کہا کہ اس قسم کے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے مقبوضہ علاقے میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری انسانی حقوق کی پامالیوںکو عالمی برادری سے چھپایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ہندوتوا کے زیر اثر بھارتی حکومت کی طر ف کشمیریوں کو خوف ودہشت کا نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طورپر بند کرائے ۔انہوں نے بھارتی فورسز کی طرف سے وادی کشمیر میں شہریوں خصوصا نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور ان پر کالے قوانین کے نفاذ کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے مودی حکومت کو خبردار کیاکہ حریت رہنمائوں، کارکنوں، نوجوانوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کے خلاف جاری کریک ڈان کے سنگین نتائج نکلیںگے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: