مقبوضہ جموں وکشمیر : مزید دو درجن سے زائد سرکاری ملازمین کو برطرفی کا سامنا

سرینگر 28نومبر (کے ایم ایس )بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف کشمیری سرکاری ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ جاری ہے ۔ قابض بھارتی حکا م نے مزید دو درجن سے زائد سرکاری ملازمین پر آزادی کی حامی تنظیموں سے روابط کا جھوٹا الزام لگایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان ملازمین کو انتظامیہ کی طرف سے پیش کردہ سفارشات کے بعد برطرفی کا سامنا ہے۔اگرچہ ملازمین نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے لیکن لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں قائم بھارتی انتظامیہ پھر بھی ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی پر بضد ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے کہ بغیر مکمل جانچ پڑتال اور چھان بین کے ملازمین کو برطرفی کی فہرست میں ڈال دیا گیا۔
امور کشمیر کے ماہرین نے تبصرہ کیا ہے کشمیری ملازمین کو ان کی خدمات سے برطرف کر کے ان کی جگہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی ہندو انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ بھارتی شہریوں کو تعینات کیا جا رہا ہے جسکا مقصد مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کے بی جے پی حکومت کے مذموم ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: