جوناگڑھ پربھارت کے جبری قبضے کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے دستخطی مہم کا آغاز

اسلام آباد 29 نومبر (کے ایم ایس) 1947ءمیں جوناگڑھ پربھارت کے جبری قبضے کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کی گئی جس کی ریاستی کونسل نے بابی خاندان کے آخری حکمران محمد مہابت خانجی سوئم کی سربراہی میں تقسیم برصغیر کے بعد جوناگڑھ کو نئے پاکستان میں ضم کر دیاتھا۔
کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 25 نومبر 2021 کو شروع ہونے والی دستخطی مہم کا مقصد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں اور فورمزکی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کراناہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ریاست جوناگڑھ پر قبضہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی جغرافیائی حدود کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ جوناگڑھ کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سب سے پرانے حل طلب ایجنڈوں میں سے ایک ہے جس کے فوری حل کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت ایک ملک نہیں بلکہ ایک خطہ ہے جہاں مختلف قومیں رہتی ہیں اور ان سب کو آزادی کا حق حاصل ہے۔یہ مہم جوناگڑھ پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو اجاگر کرنے کے لیے10 دسمبر تک جاری رہے گی۔ دستخطی مہم سے جوناگڑھ کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگرکرنے میں مدد ملے گی۔بین الاقوامی قانون کے مطابق جوناگڑھ پاکستان کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ریاست پر بھارتی قبضہ ایک ننگی جارحیت ہے۔ دستخطی مہم کا مقصد پاکستان کے ساتھ جوناگڑھ کے الحاق کے سلسلے میں مسئلے کے جلد اور فوری حل کے لیے دنیا کو آگاہ کرنا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں میں سے ایک تھا۔جوناگڑھ کی ریاستی کونسل نے 15 ستمبر 1947 کو قائداعظم کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: