مقبوضہ کشمیر : انسانی حقو ق کے کارکنوں کی طرف سے جبری گرفتاریوں کی شدید مذمت

سرینگر :غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں انسانی حقوق کے کارکنوں نے کشمیریوں کی جبری گرفتاریوں اور نظربندیوں کی جاری مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسیاں مقبوضہ علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور چھاپوں کے دوران کشمیریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انتقامی کارروائیوں کے خوف سے گمنام رہنے کو ترجیح دینے والے انسانی حقوق کے کارکنوں نے سرینگر میں میڈیا انٹرویوز میں کہا کہ حریت رہنمائوں، صحافیوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور عام کشمیریوں کو کالے قوانین کے تحت جھوٹے اور من گھڑت الزامات میں ملوث کیاجا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قابض انتظامیہ کی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اور بھارت کی مختلف جیلوں میں تقریبا 5ہزارکشمیری غیر قانونی طورپر قید ہیں ۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ5اگست 2019 کودفعہ 370کی منسوخی کے بعد سے بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے کے لیے اپنے وحشیانہ ہتھکنڈوں پرعمل درآمد کاسلسلہ تیز کر دیا ہے۔جبری گرفتاریاں، دوران حراست تشدد اور لوگوںکو ہراساں کرنا مودی حکومت کومعمول بن گیا ہے، جس سے کشمیریوں کو محکوم رکھنے میں ناکامی پر مودی حکومت کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔انہوںنے کہاکہ فوجی طاقت اور کالے قوانین کے بے دریغ استعمال سے ظاہرہوتا ہے کہ بھارت کوتنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بامعنی مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ کارکنوں کے مطابق مسلسل ظلم و تشدد کے باوجودکشمیری بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پر عزم ہیں اور ان میں سے بیشتر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارت کی پالیسیوں کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیاکہ وہ مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی گرفتاریوں کاسلسلہ بند کرانے کیلئے اقدامات کریں۔انہوں نے زور دیاکہ بھارت کے ظالمانہ ہتھکنڈے کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور کرنے میں ناکام رہیں گے اور عالمی برادری کو بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں اسکے ظالمانہ اقدامات پر جواب دہ ٹھہرانا چاہیے ۔






