تحریک جوانان کشمیر کاضلع راجوری میں پراسرار اموات کے معاملے پر اظہار تشویش

مظفرآباد:تحریک جوانان کشمیر کے چیف آرگنائزر ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے ضلع راجوری میں پراسرار اموات کے معاملے پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راجہ زاہد خان نے مظفرآباد میں جاری ایک بیان میں کہاکہ راجوری میں لوگ ہسپتالوں کے بجائے گھروں میں مردہ پائے گئے اور اتنی بڑی تعداد میں اچانک اموات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ متاثرہ افراد کی ہسپتال کے بجائے گھروں میں موت سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ لوگ بیمار نہیں تھے بلکہ ان کو منظم منصوبہ بندی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ انہوں نے بین الااقوامی اداروں سے ان اموات کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے کہاکہ گزشتہ ایک ماہ میں راجوری اور دیگر علاقوں میں صرف مسلمانوں کی اموات منظم نسل کشی کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں جس کا مقصد ان علاقوں سے مسلمانوں کا انخلا ء ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا بھی ہو سکتا ہے تاکہ مسلم آبادی خوف سے علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائے اور وہاں غیر کشمیری ہندوئوں کو آبادکیا جائے تاکہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جائے جوکسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔ڈاکٹر راجہ زاہد خان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کے لبادے میں لپٹے ہوئے بھارت کے مکروہ چہرے کو پہچانے اور اس کی باز پرس کرے تاکہ کشمیری عوام کو اس کے مظالم سے محفوظ رکھا جاسکے۔






