مقبوضہ جموں و کشمیر

طویل تنازعے اور عدم تحفظ کے باعث مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذہنی صحت کا بحران شدت اختیار کر گیا

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ذہنی صحت کے مسائل وسیع پیمانے پر پھیلتے جا رہے ہیں اورعلاقے پر بھارت کے مسلسل قبضے، تنازعہ کشمیر کے حل نہ ہونے، مسلسل عدم تحفظ اور معاشی و سماجی دباو نے لوگوں میں نفسیاتی مسائل کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہر سال 10 اکتوبر کو منائے جانے والے ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر سرینگر کے ڈاکٹروں اور ذہنی صحت کے ماہرین نے کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کے نفسیاتی اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے عوام میں شعور پیدا کرنے، بروقت علاج اور ذہنی صحت کی بہتر سہولیات تک رسائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ماہرین کاکہناہے کہ وادی کشمیر میں ذہنی صحت کے مسائل کی شرح عالمی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر منصور احمد ڈار، آر سی آئی سے منظور شدہ کلینیکل سائیکالوجسٹ اور آئی ایم ایچ اے این ایس کشمیر سے ایم فل کرنے والی اورسائیک لائٹ کی بانی ڈاکٹر زویا میر نے اور دیگر ماہرین نے نفسیاتی مسائل کی علامات پہچاننے اور ضرورت مند افراد کو بروقت مدد فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ماہرین کے مطابق طویل تنازعہ، مسلسل خوف اور تکلیف دہ واقعات سے واسطہ پڑنے کے باعث اضطراب، ڈپریشن اور صدمے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباو¿ کی بیماری (پی ٹی ایس ڈی) جنم لے سکتی ہے۔ انہوں نے مالی مشکلات، بے روزگاری، خاندانی تنازعات اور تعلیمی دباو¿ کو بھی ایسے اضافی عوامل قرار دیا جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ایچ اے این ایس) کے اعداد و شمار کے مطابق وادی کشمیر کی بالغ آبادی کے تقریباً 45 فیصد یعنی لگ بھگ 18 لاکھ افراد کو نمایاں ذہنی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کشمیریونیورسٹی کے شعبہ نفسیات اور انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ایچ اے این ایس) کے اشتراک سے ذہنی صحت کے حوالے سے ایک سروے کیا۔ سروے کے مطابق وادی کشمیر کے تقریباً 18 لاکھ بالغ افراد، جو بالغ آبادی کا لگ بھگ 45 فیصد بنتے ہیں، طویل تنازعے، خوف اور صدمات سے منسلک شدید ذہنی پریشانی کا شکار رہے۔ سروے میں 41 فیصد بالغ افراد میں ممکنہ ڈپریشن، 26 فیصد میں ممکنہ اضطراب اور 19 فیصد میں صدمے کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی دباو¿ کی ممکنہ علامات پائی گئیں۔نتائج میں نفسیاتی پریشانی اور تکلیف دہ واقعات سے واسطہ پڑنے کے درمیان تعلق کو بھی نمایاں کیا گیا۔ خواتین اور زیادہ مشکلات و مصائب سے گزرنے والے افراد کو ان گروہوں میں شامل کیا گیا جنہیں ذہنی صحت کے مسائل کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
ذہنی صحت کے ماہرین نے زور دیا کہ متاثرہ افراد میں ذہنی پریشانی کی علامات پہچاننے اور انہیں مناسب علاج و مدد تک پہنچانے میں خاندانوں اور معاشرے کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے خاندان کے اندر معاون تعلقات، سماجی روابط اور آسانی سے دستیاب پیشہ ورانہ خدمات کی ضرورت پر زور دیا، خصوصاً ان افراد کے لیے جو شدید جذباتی پریشانی یا خودکشی کے خیالات کا سامنا کر رہے ہوں۔ماہرین نے ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار افراد کے ساتھ ہمدردانہ اور غیر امتیازی رویہ اپنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے خاندانوں اور برادریوں پر زور دیا کہ وہ معاون ماحول کو فروغ دیں، صحت مند طرزِ زندگی کی حوصلہ افزائی کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ لوگ خوف، شرمندگی یا امتیازی سلوک کے بغیر نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے مدد حاصل کر سکیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل سیاسی تنازعہ اور موجودہ سکیورٹی صورتِ حال ذہنی صحت سے متعلق مباحث میں بدستور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مبصرین نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں، املاک کی ضبطی اورکالے قوانین کے تحت طویل نظربندیوں کو بھی لوگوں میں خوف اور بے یقینی کا سبب قرار دیا ہے۔مبصرین نے نفسیاتی پریشانیوں کو بھارتی حکومت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق کیے گئے اقدامات کے بعد عائد پابندیوں، مسلسل عدم تحفظ اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات سے بھی جوڑا ہے۔ بھارتی فوجیوں کی جانب سے مارپیٹ، تشدد، من مانی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کو بھی متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں میں خوف اور ذہنی صدمے کا باعث بننے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔
مبصرین نے زور دیا کہ جموں و کشمیر میں ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے صرف طبی علاج کافی نہیں۔ انہوں نے ذہنی صحت کی سہولیات میں مسلسل سرمایہ کاری، بنیادی حقوق کے تحفظ اور پریشانی کی بنیادی وجوہات دور کرنے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا، ساتھ ہی عوامی شعور بیدار کرنے اور برادری کی سطح پر مدد فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری ذہنی صحت کا بحران اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ لوگوں کو قابلِ رسائی علاج، مسلسل نفسیاتی معاونت اور ایسے حالات کی فوری ضرورت ہے جن میں وہ وقار، تحفظ اور امن کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button