آپریشن بلیو اسٹار کو 41برس مکمل، سکھ برادری کے زخم آج بھی تازہ

امرتسر:بھارتی ریاست پنجاب میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوجی آپریشن بلیو اسٹار کو 41سال مکمل ہو گئے ہیں۔1984میں آپریشن بلیو سٹار کی تلخ یادیں سکھ برادری کے ذہنوں میں آج بھی تازہ ہیں۔ سکھ قوم آج بھی انصاف کی منتظر ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 1984میں یکم سے دس جون بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے حکم پر بھارتی فوج نے امرتسر میں واقع سکھوں کے سب سے مقدس مقام، گولڈن ٹیمپل پر چڑھائی کی تھی۔ آپریشن کا مقصد سکھ رہنما جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے اور ان کے ساتھیوں کو ہدف بنانا تھا۔اس کارروائی میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے، سابق بھارتی فوجی افسر جنرل شبھگ سنگھ، سکھ طلبہ تنظیم کے صدر امریک سنگھ، ببر خالصہ کے بانی مہنگا سنگھ ببر، اور 13سالہ سربجیت سنگھ دادھر سمیت متعدد افراد مارے گئے۔ سکھوں کے مطابق 5ہزار سے زائد یاتریوں کو بھی قتل کیاگیاتھا۔سکھ تنظیموں کے مطابق آپریشن بلیو اسٹار میں 5ہزارسے زائد بے گناہ سکھ یاتریوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ گولڈن ٹیمپل کے تقدس کی پامالی کو سکھ برادری آج بھی ناقابلِ معافی جرم قرار دیتی ہے۔ ہر سال جون میں سکھ برادری ان شہدا کی یاد مناتی ہے اور انصاف کے حصول کا مطالبہ دہراتی ہے۔اکتوبر 1984 میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد، بھارت میں سکھوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ دہلی سمیت دیگر علاقوں میں ہزاروں سکھوں کو قتل کیا گیا۔ اسی سال ہریانہ کے ہونڈھ چِلر میں 32 سکھ قتل کیے گئے۔1984سے 1995کے درمیان پنجاب میں ہزاروں سکھ جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنے۔انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کالرا کو اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بھارت پر یہ الزامات بھی لگے کہ وہ بیرونِ ملک سرگرم سکھ کارکنوں کو بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔2000میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے چٹی سنگھ پورہ میں 35سکھوں کو قتل کیا گیا۔ 2023میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کا الزام وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارت پر عائد کیا۔اسی سال امریکا میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنو کے قتل کی بھارتی سازش کو بے نقاب کیا گیا۔سکھ رہنما اور انسانی حقوق تنظیمیں مطالبہ کرتی ہیں کہ1984 کے مظالم، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور مذہبی مقامات کی بے حرمتی پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ خالصہ کا وقار پامال ضرور ہوا، لیکن ایمان اور عزم مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ ہم نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے۔





