مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیرمیں1989سے اب تک 22ہزار983خواتین بیوہ ہوئیں

اسلام آباد: آج جب دنیا بھر میں بیوہ خواتین کادن منایا جارہا ہے ،کشمیری خواتین کو بھارتی فوجیوں اور ایجنسیوں کی طرف سے مسلسل مظالم کا سامنا ہے۔
اس دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی مسلسل ریاستی دہشت گردی سے جنوری 1989سے اب تک 22ہزار983خواتین بیوہ ہوئیں جن کے شوہروں کوبھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں نے جعلی مقابلوں میں یا دوران حراست شہیدکیاہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ علاقے میں گزشتہ 37سال کے دوران تقریبا 2500خواتین کو نیم بیوہ کی زندگی گزارنے پر مجبورکیاگیاہے کیونکہ ان کے شوہروں کو بھارتی فوج اور پولیس نے گرفتاری کے بعدغائب کردیا ہے ۔ ان میں سے بہت سی خواتین ذہنی تنائو کی وجہ سے فوت ہوگئی ہیں۔یہ دن کشمیری بیوائوں اور نیم بیوائوں کو درپیش مشکلات کی یاددہانی ہے اور دنیا کو ان کی مشکلات کو فراموش نہیں کرناچاہیے۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں گمشدہ افرادکے والدین کی تنظیم”ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس ایپئرڈ پرسنز” اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1989سے اب تک 8ہزارکے قریب شہری بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تحویل میں غائب کردیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ نیم بیوہ خواتین اپنے شوہروں کو تلاش کرنے کے لئے کئی سالوں سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوج اور پیراملٹر فورسز کے کیمپوں کے چکر کاٹ رہی ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ جنوری 2001سے آج تک 688خواتین کو فورسز کے اہلکاروں نے شہید کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کشمیری خواتین کی اکثریت متعدد نفسیاتی اورذہنی مسائل کا شکار ہے۔ اپریل 2024 کی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ وادی کشمیر میں مجموعی طور پر 11.3 فیصدافراد نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیںاور مردوںکے 8.4فیصدکے مقابلے میں خواتین میں یہ شرح زیادہ یعنی 12.9فیصد تھی ۔علاقے میں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کے خواہاںافراد میں 70فیصد خواتین ہوتی ہیں۔ سرینگر میں ایک ذہنی صحت کی ہیلپ لائن نے متعدد مریضوں کا معائنہ کرنے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ ذہنی صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ہیلپ لائن کے مطابق اسے موصول ہونے والی 70 فیصدکالیں پریشانی میں مبتلا خواتین کی ہوتی ہیں۔ کشمیر ہمیشہ سے ہی ایک جنگ زدہ علاقہ رہا ہے اور وہاں کے لوگوں کو اس کے نتائج بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ ایک ایسی سرزمین پر جہاں زندگی پہلے ہی مشکل ہے ، بھارتی فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی ، گھروں میں چھاپوں ، محاصرے اورتلاشی کی کارروائیوں، نوجوانوں کی گرفتاریوں ،گھروں کی تباہی اور بی جے پی حکومت کی طرف سے جائیدادوں کی ضبطی کے باعث کشمیر ی خواتین کو مسلسل مسائل کا سامنا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کو عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ مختلف عوامل ہیں جن میں جنگی صورتحال ،، آب و ہوا کے حالات اور معاشی چیلنجز شامل ہیں۔ سرینگر میں ماہر نفسیات زویا میر کے مطابق جسمانی بیماری بہت سارے لوگوں کی ترجیح ہوتی ہے۔ ذہنی بیماری اس طرح سے نظر نہیں آتی ، لہذا اسے سمجھنا مشکل ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی نفسیاتی ماہر سے ملنے والے کو پاگل سمجھا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کے بارے میں بات بھی نہیں کرتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری خواتین کو بھارتی بربریت کے خلاف آواز اٹھانے پرنشانہ بنایاجاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیوائوں کابین الاقوامی دن کشمیری بیوائوں اورنیم بیوائوںکی حالت زار کو محسوس کرنے کا دن ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبد الشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا ہے کہ دنیا آج بیوائوں کا دن منارہی ہے جبکہ مقبوضہ جموں کشمیر کی خواتین کو مسلسل بھارتی فوجیوں کی طرف سے مظالم کا سامناہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی جبری گمشدگیوں اور مظالم اور کشمیری خواتین پر ان کے اثرات پر اپنی خاموشی کو توڑدینی چاہئے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button