اسلام آباد:پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کے بھارت کے مذموم عزائم ایک بار پھر ناکام ہوگئے ہیں ۔ انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے” را “کے جاسوس عثمان عرف عبدالرحمان کو 20 سال قید کی سزا سنادی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مجرم سابق بھارتی شہری اور جاسوس ہے جو اس وقت افغانستان کی شہریت رکھتا ہے۔ وہ چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا ۔ اس سے دھماکہ خیز بارودی مواد برآمد ہوا تھا۔ مجرم عثمان کے خلاف 2024ءمیں سی ٹی ڈی لاہور نے مقدمہ درج کیا تھا۔ عثمان کو حراست میں لینے سے قبل کئی ماہ تک اسکی نگرانی کی جاتی رہی ۔انٹیلی جنس رپورٹس میں نشاندہی کی گئی کہ وہ جاسوسی اور دہشتگردی کی کارروائیوں سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر نے کی کوشش کر رہا تھا´۔ خصوصی عدالت میں چلنے والے اس کیس میں عثمان بلوچستان میں جاسوسی کا مجرم اور دہشتگرد سرگرمیوں کا معاون پایا گیا ہے۔ اسے 20 سال قید کی سزا پاکستان کے اس عزم کا اظہار ہے کہ اپنی سر زمین پر غیر ملکی مداخلت سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
حکام کا کہنا تھا کہ عثمان پاکستان میں تخریب کاری کی بڑی منصوبہ بندی کر رہا تھا تاہم سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے اسکی سازش ناکام بنا دی۔ بھارت جاسوسی، دہشت گردی اور سرحد پار سے دراندازی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اپنی خفیہ ایجنسی ”را“ کو مسلسل استعمال کر رہا ہے۔یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ کیس نہیں ہے۔ رواں برس 25 اپریل کو ایک اور تربیت یافتہ دہشت گرد عبدالمجید کو جہلم میں بس اسٹینڈ کے قریب سے پکڑا گیا۔ سیکورٹی فورسز نے اس کے قبضے سے 2.5 کلو گرام دھماکہ خیز مواد، دو موبائل فون، ایک کروڑ روپے نقد اور ایک بھارتی ساختہ ڈرون برآمد کیا تھا۔ اس کے واٹس ایپ چیٹس اور فون کالز کے فرانزک تجزیے سے ایسی چونکا دینے والی ہدایات سامنے آئی ہیں جو بھارتی فوجی افسران کی جانب سے اسے دی جا رہی تھیں۔ان افسران میں میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر اور حوالدار امیت شامل ہیں۔ ”ہمیں سویلین لاشوں کی ضرورت ہے،ہمیں بم بنانے کی ویڈیوز بھیجیں،دھماکے کے بعد آپ کو 10 لاکھ روپے فی زخمی ملیں گے جیسی ہدایات اسے دی جا رہی تھیں۔
اس سے قبل برطانوی روزنامہ دی گارڈین نے اپنی 4 اپریل 2024 کی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را“ نے کرائے کے قاتلوں کی سرپرستی کی جنہوں نے 2020 سے 2024 کے درمیان پاکستان میں 20 سے زائد ٹارگٹ کلنگ کیں۔
مارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتار کیے گئے کلبھوشن جادھو کا کیس بھارتی ریاستی دہشت گردی کا سب سے واضح ثبوت ہے۔ جادھو ایک حاضر سروس بھارتی بحریہ کا افسر، ایران کے راستے جعلی شناخت کے تحت پاکستان میں داخل ہوا تھا اور اسے بلوچستان اور کراچی میں علیحدگی پسندی ، فرقہ اوروارانہ تشدد کو ہوا دینے اور تخریب کاری کی سرپرستی کرنے کا کام سونپا گیا۔
تجزیہ کاروں اور حکام نے زور دے کر کہا کہ یہ واقعات بھارت کی طرف سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی منظم مہم کی تصدیق کرتے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور علاقائی امن کو خطرے میں ڈالنے کے لیے نئی دہلی کو جوابدہ ٹھہرائے۔KMS-11/M








