”قرار داد الحاق پاکستان“کشمیریوں کے جذبات و احساسات کی ترجمان ہے، مسرت عالم

سرینگر:کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیرقانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے 19جولائی کو جموں وکشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے 1947میں اس دن اپنی تاریخی ’قراردادالحاق پاکستان“کے ذریعے اپنا مستقل مملکت خداداد کیساتھ وابستہ کر لیا تھا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل سے اپنے ایک پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کے حقیقی نمائندوں نے یہ قرار داد پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی تقریباً ایک ماہ قبل پاس کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ الحاق پاکستان کا کشمیریوں کا فیصلہ کوئی جذباتی عمل نہیں تھا بلکہ اسکے پیچھے ان عظیم مذہبی ، تہذیبی، معاشرتی ، ثقافتی و تمدنی رشتوں کا عمل دخل تھا جو پاکستان اور کشمیر کے درمیان موجود ہیں۔
مسرت عالم بٹ نے کہا کہ یہ تاریخی قرار داد کشمیریوں کے حقیقی جذبات، احساسات اور امنگوں کی ترجمان ہے اور وہ اس قرارداد کو عملی جامہ پہنانے کیلئے گزشتہ78برس سے قربانیوں کی ایک عظیم تاریخ رقم کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ والہانہ لگاﺅ رکھتے ہیں ، بھارت کا ظلم وستم انکے دلوں میں موجود پاکستان کی تڑپ ختم نہیں کرسکا ہے ۔ مسرت عالم بٹ نے کہا کہ قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور الحاق پاکستان کا کشمیریوں کا خواب پورا ہو کر رہے گا۔
دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماﺅں غلام محمد خان سوپوری، فیاض حسین جعفری مولانا سبط شبیر قمی، ایڈووکیٹ ارشد اقبال ، عبدالصمد انقلابی اور مولانا مصعب ندوی نے بھی اپنے بیانات میں کہا کہ 19 جولائی جموں و کشمیر کی تاریخ کا ایک انتہائی اہم دن ہے جب 1947میں اس روز کشمیری قیادت نے آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے سرینگر میں ”قرارداد الحاق پاکستان“ پاس کر کے مملکت خداد اد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔انہوںنے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کی خواہشات پامال کرتے ہوئے جموں وکشمیر پر قبضہ جمارکھا ہے جسکے خلاف کشمیریوں عظیم قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارت کا بے انتہا جبر وستم کشمیریوں کے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ اس کے تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارت کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کے کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق حل کے لیے بھارتی قیادت پردباﺅ ڈالے۔







