مقبوضہ جموں و کشمیر

سرینگر: بھارتی فوجی افسر کا ائر پورٹ پر” سپائس جیٹ “کے ملازمین پر بہیمانہ تشدد، 2شدید زخمی

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوج کے ایک افسر نے سرینگر ہوائی اڈے پر اضافی سامان کے معاملے پرہوائی کمپنی اسپائس جیٹ کے ملازمین کو بہیمانہ تشدد کانشانہ بنایا۔تشدد کے باعث بھارتی ہوائی کمپنی کے دو ملازم شدیدزخمی ہوگئے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ایئر لائن ”سپائس جیٹ “ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک فوجی افسر نے سنیچر کو سری نگر ہوائی اڈے کے بورڈنگ گیٹ پر چار ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنایا جسکی وجہ سے دو ملازم شدید زخمی ہو گئے۔یہ واقعہ سری نگر سے دہلی جانے والی پرواز SG-386 کے بورڈنگ عمل کے دوران پیش آیا۔
ایئر لائن نے مزید کہا کہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب فوجی افسر کو، جو 16 کلوگرام وزنی کیبن کا سامان لے کر جا رہا تھا، جو کہ 7 کلوگرام کی حد سے دوگنا ہے، لاگو چارجز ادا کرنے کو کہا گیا۔ فوجی افسر نے اضافی چارجز ادا کرنے سے انکار کیا اور لازمی بورڈنگ چیک مکمل کیے بغیر ایرو برج میں زبردستی داخل ہوا۔ اسے سینٹرل انڈسٹریل سیکورٹی فورسز ( سی آئی ایس ایف )کے ایک اہلکار نے جب روکنے کی کوشش تو وہ تشدد پر اتر آیا اور عملے کے چار ارکان پر گھونسوں، لاتوں کی بارش کر دی ۔ شدید حملے کے نتیجے میں دو ملازمین بے ہوش ہو گئے اور ان کی ناک اور منہ سے خون بہنے لگا۔
زخمی ملازمین کو بعدازاں ہسپتال منتقل کیا۔
ائر کمپنی نے اپنے بیان میںمزید کہاکہ واقعے کے حوالے سے مقامی تھانے میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اسپائس جیٹ نے فوجی افسر کو سول ایوی ایشن کی "نو فلائی” فہرست میں شامل کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ ایئر لائن نے شہری ہوا بازی کی وزارت کو بھی خط لکھ کر مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔واقعے کی ایئرپورٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر کے حکام کو پیش کر دی گئی ہے۔کمپنی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ”اسپائس جیٹ اپنے ملازمین پر تشدد کی سختی سے مذمت کرتا ہے اور اس معاملے کو اپنے مکمل قانونی انجام تک پہنچائے گا“۔ بھارتی فوج کا واقعے کے حوالے سے تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button