بھارت

چھ پاکستانی طیارے مار گرانے کا بھارتی ایئر چیف کا دعویٰ مضحکہ خیز ہے: تجزیہ کار

اسلام آباد:دفاعی تجزیہ کاروں نے چھ پاکستانی طیارے مارگرانے کے بھارتی ائیر چیف کے دعوے کو مضحکہ خیز قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اس میں تاریخی حقائق اورآپریشنل حقیقتوں کو نظرانداز کیاگیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تجزیہ کاروں نے جنگی ریکارڈ کا حوالہ دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایئر فورس نے صرف ایک گھنٹے میں چھ بھارتی طیارے مار گرائے جبکہ بھارت کو یہ دعویٰ کرنے میں مہینوں لگے۔ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے مواد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایک گھنٹے میں 6طیارے مارگرائے جبکہ بھارت کو یہ دعویٰ کرنے میں 90دن لگے۔ ایک دفاعی ماہر نے کہاکہ یہ مضحکہ خیز ہے۔یہ دونوں فضائی افواج کے درمیان جنگی تیاری اور حکمت عملی پر عمل درآمد میں فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہاکہ اعلی بھارتی فوجی حکام کے اس طرح کے مبالغہ آمیز دعوے اکثر میدان جنگ کی حقیقتوں کی عکاسی کرنے کے بجائے گھریلو پروپیگنڈے کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی اے ایف کے ثابت شدہ ٹریک ریکارڈنے بھارت کو فوجی اور سفارتی طور پر دفاعی اندازاختیارکرنے پر مجبور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے نت نئے بیانیے اس حقیقت کو چھپا نہیں سکتے کہ فضائی تصادم میں پاکستان کی فضائیہ نے اعلی مہارت اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن فتوحات حاصل کیں۔آئی اے ایف چیف کا یہ اعتراف کہ انہوں نے یہ جنگ کاک پٹ سے نہیں بلکہ ایئر کنڈیشنڈ آپریشن روم سے لڑی ، بھارتی ائرچیف کے دعوے کی قلعی کھول دیتا ہے۔ حقیقی سپاہی اپنے گرے ہوئے ساتھیوں کا احترام اور شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہیں ، نہ کہ بغیر کسی ثبوت کے دشمن کی ہلاکتوں کی تعدادبڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ بی بی سی نے پاکستان کے موقف میں مزید وزن ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ آئی اے ایف کے سربراہ کی اس تقریر اور دعوئوں نے بھارت کے اندر بھی تضحیک اور شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ بھارتی سوشل میڈیا صارفین ان دعوئوں کی ٹائمنگ اور سچائی کا مذاق اڑاتے ہوئے سوال کر رہے ہیں کہ بھارتی قیادت کو چھ پاکستانی طیاروں کو مار گرانے کا اعتراف کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟ بھارتی شہری الجھن کا شکار ہیں اور عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں،بہت سے لوگ طنزیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ معلومات پہلے کیوں ظاہر نہیں کی گئیں اورپارلیمانی اجلاسوں کے دوران ان کو کیوں چھپایاگیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تاخیر سے اس طرح کے بڑے دعوے نئی دہلی کی حکمت عملی کا حصہ ہیں جہاں سیاسی اور فوجی قیادت اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے اور ملکی رائے عامہ کو اپنے حق میں منظم کرنے کے لیے بڑے بڑے دعوئوں پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اپنے دفاعی حلقوں اور سابق فوجیوں نے پہلے بھی فضائی فتوحات کے سرکاری دعوئوں پر سوالات اٹھائے ہیں اورشواہد میں تضادات اور آزادانہ تصدیق کے فقدان کی نشاندہی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فضائی جنگی ریکارڈ کی حقیقی تصادم اور زمینی ملبے سے تصدیق ہوتی ہے جب کہ بھارت کے تازہ ترین دعوے کی غیر جانبدار مبصرین تصدیق نہیں کرتے۔ تجزیہ کاروں نے کہاکہ یہ صرف فضائی طاقت کا معاملہ نہیں بلکہ ٹیلی ویژن اسکرین کے پروپیگنڈے اور میدان جنگ میں کارکردگی کے درمیان فرق کا معاملہ ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button